حوثی ’بحیرۂ احمر کشیدگی کے مکمل ذمہ دار‘، اسلحے کی ترسیل روکی جائے: سلامتی کونسل سے مطالبہ
اقوام متحدہ کے مطابق اس ماہ کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ 25 ہزار افراد بے گھر اور 40 شہری ہلاک ہوئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں برطانیہ کی نائب سفیر کیٹ فوسٹر نے کہا کہ حوثی فورسز ’باب المندب اور بحیرۂ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی مکمل ذمہ دار‘ ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ حوثیوں کا ساحلی کنٹرول بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے براہ راست خطرہ ہے اور اس کے اثرات سب سے پہلے ترقی پذیر ممالک پر پڑیں گے۔
اجلاس بحرین، برطانیہ، ڈنمارک، فرانس، یونان اور لٹویا کی درخواست پر بلایا گیا۔ یہ اس وقت ہوا جب حوثیوں نے یمن کے ساحل پر تیز رفتار پیش قدمی کرتے ہوئے مخا بندرگاہ، پریم جزیرہ اور ہنش جزائر پر قبضہ کر لیا اور سعودی پرچم بردار جہازوں پر پابندی کا اعلان کیا۔ اس پیش رفت نے عالمی تجارت کے 12 فیصد حصے کو خطرے میں ڈال دیا اور تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئیں۔
اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل خالد خیاری نے بریفنگ میں کہا کہ حوثی باب المندب کی طرف بڑھ رہے ہیں جبکہ یمنی حکومت نے مأرب، تعز اور صعدہ سمیت کئی محاذوں پر جوابی کارروائی شروع کی ہے۔ انہوں نے سعودی شہری اور توانائی ڈھانچے پر حملوں کی مذمت کی اور نیویگیشن کے حقوق کی بحالی پر زور دیا۔
اقوام متحدہ کے مطابق اس ماہ کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ 25 ہزار افراد بے گھر اور 40 شہری ہلاک ہوئے ہیں، جن میں نصف خواتین اور بچے شامل ہیں۔ کئی ہزار افراد جبوتی منتقل ہو چکے ہیں۔
یمن کے سفیر عبداللہ السعدی نے کہا کہ حوثی حملہ اب داخلی معاملہ نہیں رہا بلکہ ’علاقائی سلامتی، توانائی کی فراہمی اور عالمی تجارت‘ کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کونسل حوثیوں کو ذمہ دار ٹھہرائے، اسلحے کی پابندی نافذ کرے اور یمن کی کوسٹ گارڈ و بحریہ کو مضبوط کرے۔
بحرین کے نمائندے جمال الروائیعی نے کہا کہ حوثیوں نے ’اعتماد سازی کے ہر موقع کو ضائع کیا‘ اور انہیں ’علاقے میں عدم استحکام کا آلہ کار‘ قرار دیا۔ انہوں نے سخت پابندیوں اور ڈرون حملوں کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔
امریکی سفیر جینیفر لوکیٹا نے کہا کہ یہ کشیدگی ’ایرانی منصوبہ‘ ہے جو پراکسی کے ذریعے نافذ ہو رہا ہے۔ انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثیوں کی حمایت بند کرے اور حوثی قبضہ شدہ علاقوں سے دستبردار ہوں۔ واشنگٹن علاقائی شراکت داروں کے ساتھ جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے۔
