جمعرات کو محکمہ خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میزبان ملک کے طور پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کے تحت ایرانی حکومت کا مرکزی وفد جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں شرکت کر سکے گا۔‘
تاہم سرکاری عہدیدار کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایرانی وفد پچھلے برس کے مقابلے میں چھوٹا ہو گا اور وفد کے ارکان کو سفری پابندیوں کا سامنا بھی ہو گا جبکہ انہیں بعض مصنوعات خریدنے کی بھی اجازت نہیں ہو گی۔
فروری کے اواخر میں ایران پر امریکی واسرائیلی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ ساتویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور اس کا دائرہ پورے مشرق وسطیٰ تک پھیل چکا ہے۔
حملوں کے جواب میں ایران نے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کیا، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
حالیہ ہفتوں کے دوران دونوں ممالک میں لڑائی میں ایک بار پھر شدت دیکھنے میں آئی ہے جبکہ آبنائے ہرمز اور یمن کے قریب آبنائے باب المندب کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بھی بدستور محدود ہے جہاں حوثیوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔
امریکہ کی جانب سے فلسطینی صدر محمود عباس کو اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کیا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کی جانب سے یہ قدم ایک ایسے وقت بھی سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے فلسطینی صدر محمود عباس کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کیا ہے، ایک سورس نے بدھ کو اس کی تصدیق کی تھی اور یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ ان کو ویزا جاری نہیں کیا گیا۔
پچھلے سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی انتظامیہ کے اسی فیصلے کے باعث فلسطینی رہنما محمود عباس کو عالمی رہنماؤں کے اجلاس میں ویڈیو لکنگ کے ذریعے خطاب کرنا پڑا تھا جبکہ اس سے قبل وہ باقاعدگی سے اجلاس میں شریک ہوتے رہے تھے۔
محکمہ خارجہ کے بیان میں صدر محمود عباس کا شامل کیے بغیر کہا گیا ہے کہ فلسطین لبریشن آرگنائزیش اتھارٹی کے عہدیداروں کو ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’یہ فیصلہ ان کی جانب سے اصلاحات نہ ہونے، امریکہ سے کیے گئے وعدوں کے خلاف اقدامات اور امن کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کی وجہ سے کیا گیا ہے۔‘