Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی میڈیا سے تنازع کے بیچ وائٹ ہاؤس کا ’ٹرمپ ٹی وی‘ متعارف، یہ کیا ہے؟

ٹرمپ نے ایک طویل عرصے سے میڈیا اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
وائٹ ہاؤس نے پیر کو ’ٹرمپ ٹی وی‘ لانچ کر دیا  ہے جو 24 گھنٹے ٹرمپ انتظامیہ کے پرانے پروگرام اور تقاریب نشر کرے گا۔
فاکس نیوز کے مطابق یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو سے وابستہ صحافیوں کے وائٹ ہاؤس پریس کریڈنشلز منسوخ کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس سروس کے آغاز کا اعلان کیا گیا جس کے ساتھ لکھا تھا کہ ’24 گھنٹے، سات دن لائیو سٹریمنگ۔ شام سات بجے براہِ راست۔
اس سے قبل پیر کو وائٹ ہاؤس نے اس اکاؤنٹ پر متعدد مختصر ویڈیوز جاری کرکے کسی نئی پیش رفت کا اشارہ دیا  تھا۔ ان میں ایک پرانا ٹی وی سیٹ دکھایا گیا جس پر لکھا تھا ’کچھ آنے والا ہے، دیکھتے رہیے‘، جبکہ ایک اور ویڈیو میں بظاہر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ سیٹلائٹ ٹرک کو وائٹ ہاؤس کے دروازے سے اندر داخل ہوتے دکھایا گیا۔
وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر موجود لائیو سٹریم پیج کے مطابق ’ٹرمپ ٹی وی: دی ایسنشلز سٹیشن‘ کی تفصیل میں کہا گیا ہے ٹرمپ انتظامیہ کے اہم ترین لمحات ایک ہی جگہ دیکھیے۔ اہم ویڈیوز، بڑی تقاریر اور قابلِ ذکر جھلکیاں 24 گھنٹے نشر کی جائیں گی اور حقیقی وقت میں اپ ڈیٹ ہوتی رہیں گی۔ باخبر رہیے اور تازہ ترین معلومات سے آگاہ رہیے۔
اس سے قبل سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو نے وائٹ ہاؤس کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ اداروں نے واشنگٹن کی ایک عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے وائٹ ہاؤس کے پریس کریڈنشلز بحال کیے جائیں اور مقدمے کی کارروائی مکمل ہونے تک پابندی پر عمل درآمد روکا جائے۔
ان خبر رساں اداروں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام امریکی آئین کی پہلی ترمیم میں دی گئی آزادیٔ اظہار کی ضمانت کی خلاف ورزی ہے کیونکہ انہیں ایسی کوریج پر سزا دی جا رہی ہے جو صدر ٹرمپ کو ناپسند ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقدام امریکی آئین کی پانچویں ترمیم کے تحت حاصل قانونی عمل کے حق کی بھی خلاف ورزی ہے۔
اداروں نے اپنی قانونی درخواست میں کہا کہ ’یہ پابندی پہلی ترمیم پر براہِ راست حملہ ہے۔
پیر کو ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ان اداروں کی جانب سے وائٹ ہاؤس تک رسائی بحال کرنے کے لیے دائر کیے گئے مقدمے کے بعد ’فیک نیوز‘ کو ’جمہوریت کے لیے خطرہ‘ قرار دیا۔ ٹرمپ نے مقدمے کی سماعت کرنے والے امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹموتھی کیلی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
ٹرمپ نے مؤقف اختیار کیا کہ وائٹ ہاؤس کو ایسے اداروں کو رسائی دینے کا پابند نہیں ہونا چاہیے جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ نامعلوم ذرائع کی بنیاد پر جھوٹی یا ہتک آمیز خبریں شائع کرتے ہیں۔
ٹرمپ نے لکھا کہ ’مجھے ایسے لوگوں کو ’رسائی‘ کیوں دینی چاہیے؟‘ انہوں نے اوول آفس کو ’دنیا کا سب سے اہم دفتر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ساتھ ’وقار، احترام اور شائستگی‘ کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔
پیر کو ہی بڑے امریکی ٹی وی نیٹ ورکس نے سی این این کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے مشترکہ ٹی وی کوریج سسٹم سے چینل کو نکالے جانے کے بعد اس کی جگہ اپنی ٹیم بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس اقدام کے نتیجے میں صدر ٹرمپ کی بعض تقریبات کی مشترکہ ٹی وی کوریج متاثر ہوئی۔
اے بی سی، سی این این، فاکس نیوز اور این بی سی نے کہا کہ وہ سی این این کی جگہ متبادل عملہ نہیں بھیجیں گے۔ ایک مشترکہ بیان میں نیٹ ورکس نے کہا کہ عوام کا اپنے حکومتی امور کے بارے میں درست اور آزاد معلومات حاصل کرنا ایک اہم مفاد ہے۔ کسی بھی انتظامیہ کو کسی خبر رساں ادارے کی رپورٹنگ پر اعتراض کی بنیاد پر اسے محدود نہیں کرنا چاہیے۔

شیئر: