امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسینٹ نے خبردار کیا کہ امریکی پابندیوں کے دباؤ کے باعث دو روز بعد ایرانی ایئرلائنز کے لیے عالمی سطح پر کام جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
سکاٹ بیسینٹ نے ایران کے خلاف جاری اقتصادی مہم کے تحت نئی امریکی پابندیوں سے متعلق دنیا بھر کے ایئرپورٹس اور ایوی ایشن سروس فراہم کرنے والے اداروں کو خبردار کیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ ایران پر اپنا دباؤ برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
سکاٹ بیسینٹ نے پیر کے روز امریکی ٹی وی سی این بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’23 ستمبر کو دنیا بھر میں تمام ایرانی ایئرلائنز کے آپریشنز بند ہو جائیں گے۔‘
’اگر ایرانی ایئرلائن کا جہاز کسی ملک میں اترتا ہے تو وہاں کی کمپنیوں کو اسے ایندھن، ایئرپورٹ کی سہولیات یا ٹکٹ فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر کوئی کمپنی پھر بھی ایرانی ایئرلائنز کے ساتھ کاروبار کرتی ہے تو اسے امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور وہ ڈالر میں کاروبار کرنے کی سہولت سے محروم ہو سکتی ہے۔‘