Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شاہ عبدالعزیز کے دور کے اہم سنگِ میل: جدید سعودی ریاست کی بنیاد رکھنے والے ابتدائی اقدامات

سال 1924 میں مملکت کا پہلا سرکاری اخبار ’ام القری‘ جاری ہوا۔(فوٹو: ایس پی اے)
شاہ عبدالعزیز کی قیادت میں مملکت کے اتحاد کے بعد زندگی کے مختلف شعبوں میں تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ ریاستی اداروں کے قیام، مختلف شعبوں کی ترقی اور معاشرے کو ابتدائی مرحلے سے منظم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔
ایس پی اے کے مطابق شاہ عبدالعزیز فاؤنڈیشن نے اپنے دستاویزی آرکائیو کے ذریعے بانی مملکت کے دور کے اہم امور کو اجاگر کیا ہے جو جدید سعودی ریاست کی تعمیر اور یہاں ہونے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
سنہ 1912 میں ’الارطاویہ‘ (ریاض ریجن کے قریب المجمعہ کمشنری کا شہر ہے جس کا نام ’الارطی شہر کی نسبت سے الارطاویہ رکھا گیا) کی پہلی ہجرت ہوئی جس کا مقصد قبائل کو مستقل بستیوں میں آباد کرنا تھا۔
بعدازاں مختلف شعبوں میں کئی اہم اقدامات سامنے آئے۔ سنہ 1924 میں مملکت کا پہلا سرکاری اخبار ’ام القری‘ جاری ہوا۔ اسی برس حجاج کو بندرگاہوں سے مکہ مکرمہ منتقل کرنے والی پہلی کمپنی قائم کی گئی۔
سنہ 1925 میں حج کے موقع پر پہلا یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری ہوا اور ابھا سے پہلی وائرلیس ٹیلی گرام بھیجی گئی۔
سنہ 1927 میں ابھا میں پہلا میڈیکل کلینک قائم کیا گیا۔ پہلی مرتبہ خانہ کعبہ کے لیے سیاہ ریشم کا غلاف تیار کیا گیا۔
1930 میں وزارتِ خارجہ قائم ہوئی جو مملکت کی پہلی وزارت تھی۔ 1932 میں ضباء کمشنری میں پہلا پولیس سٹیشن قائم کیا گیا۔

مواصلات کے شعبے میں پیشرفت بھی سنہ 1933 میں ہوئی جب شاہ عبدالعزیز اور ولی عہد کے درمیان پہلی ٹیلی فونک کال ہوئی۔
سنہ 1938 میں تیل کی دریافت کے ساتھ ہی معیشت نے ایک نئی مرحلے میں قدم رکھا۔ سنہ 1939 میں سعودی پائلٹ نے مصر اور مملکت کے درمیان فضائی سفر مکمل کیا۔

مملکت میں پہلا قانونِ محنت سنہ 1947 میں رائج کیا گیا۔ اسی برس ریاض شہر میں یتیم بچوں کے لیے پہلا سکول قائم کیا گیا۔
سنہ 1949 میں ایوی ایشن کے پہلے دستے کو تربیت کے لیے بیرون ملک بھیجا گیا۔ سنہ 1953 میں پہلی کاغذی کرنسی نوٹ ’ایصالات الحج‘ (حج نوٹ) کے نام سے جاری ہوئے جن کی مالیت ایک ، پانچ اور دس ریال تھی۔

 

شیئر: