پی ٹی آئی لانگ مارچ، ایم ون اور جی ٹی روڈ کے کون کون سے حصے آج بند ہوں گے؟
پی ٹی آئی لانگ مارچ، ایم ون اور جی ٹی روڈ کے کون کون سے حصے آج بند ہوں گے؟
بدھ 23 ستمبر 2026 8:37
پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس نے اعلان کیا ہے کہ آج موٹر وے اور جی ٹی روڈ کے کچھ حصوں کو بند کیا جا رہا ہے جبکہ اسلام آباد میں سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
بدھ کو این ایچ ایم پی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر کی گئی پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ 23 ستمبر 2026 کو شام کے وقت ایم ون اسلام آباد ٹول پلازہ تا چھچھ، ایم 14 ہکلہ تا کنڈل کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا جائے گا۔
اس میں جی ٹی روڈ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ این فائیو اٹک خورد کے مقام پر بھی دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک بند رہے گی۔
اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ مقامات کب تک بند رہیں گے اور کب انہیں دوبارہ کھولا جائے گا۔
پوسٹ میں عوام کو ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ سفر شروع کرنے سے قبل تازہ ترین ٹریفک صورت حال اور سفری معلومات کے لیے نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ @NHMPofficial سے معلومات حاصل کریں یا ٹول فری ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کریں۔
پوسٹ میں اس بندش کی وجہ نہیں بتائی گئی تاہم چند روز سے شاہراہوں کے علاوہ اسلام آباد شہر کے اندر بھی خصوصی انتظامات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے احتجاج کے اعلان کے بعد اس پرعملدرآمد بھی شروع کر دیا ہے جبکہ اس کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد آنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
پشاور اور دوسرے شہروں میں اس حوالے سے سرگرمیاں دیکھی گئیں جبکہ مختلف علاقوں سے گرفتاریوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں کے علاوہ بھی کئی مقامات پر کنٹینر پہنچائے جا چکے ہیں جبکہ ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے۔
اگرچہ راستے ابھی مکمل طور پر بند نہیں کیے گئے تاہم انتظامات سے دکھائی دے رہا ہے کہ کسی بھی وقت کنٹینرز کی مدد سے راستے بند کر دیے جائیں گے۔
اس سے قبل 21 ستمبر کو بھی موٹروے ایم ون پر کرنل شیر خان انٹرچینج کو بند کر دیا گیا تھا تاہم بعدازاں کھول دیا گیا تھا۔
اسلام آباد میں کئی مقامات پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اسی طرح سیاسی جماعتوں کے احتجاج اور سکیورٹی کی صورت حال کے باعث سوات موٹر وے ایم 16 کو بھی بند کرنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
دوسری جانب اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے اور شہر میں کسی بھی قسم کے جلسے، جلوس اور ریلیوں پر مکمل پابندی عائد ہے۔
دوسری جانب سندھ پولیس کے 2 ہزار اہلکار پیر کو ریل کے ذریعے اسلام آباد پہنچ گئے۔ سندھ پولیس کی نفری کو پولیس لائن، فیصل مسجد اور ڈپلومیٹک انکلیو میں ٹھہرایا جائے گا۔
اسلام آباد میں مظاہرین کا داخلہ روکنے کے لیے شہر کے اندرونی اور بیرونی راستوں پر ایک ہزار سے زائد کنٹینرز بھی رکھ دیے گئے ہیں۔
اسلام آباد میں 8 ڈی آئی جیز کی نگرانی میں مجموعی طور پر 22 ہزار سے زائد اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا جبکہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کو ملانے والے مقام اٹک پر 30 ہزار اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
حکام کی جانب سے مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور روانہ ہونے سے قبل موٹروے پولیس ایڈوائزری کی تازہ ترین صورتِ حال لازمی معلوم کریں۔