Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جماعت اسلامی کا احتجاج مؤخر کرنے کا اعلان، ریلیف نہ ملنے پر اکتوبر میں دوبارہ لانگ مارچ کرنے کا عندیہ

جماعت اسلامی نے 20 ستمبر کو کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن سے ’سپر لانگ مارچ‘ کا آغاز کیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ فی الحال مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم احتجاجی تحریک ختم نہیں کی جائے گی۔
منگل کو ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وزیر اعظم کی وطن واپسی پر ان سے ملاقات ہوگی اور اگر اس دوران پیٹرولیم مصنوعات پر مطلوبہ ریلیف نہ ملا تو اکتوبر کے پہلے ہفتے میں لانگ مارچ دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اپنے احتجاج اور لانگ مارچ سے دستبردار نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق ’احتجاجی کیمپ اور دھرنے جاری رہیں گے جبکہ کارکن مسلسل میدان میں موجود رہیں گے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے گذشتہ روز ٹیلی فون پر رابطہ کرکے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔‘
حافظ نعیم الرحمان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس وقت بیرون ملک ہیں اور وطن واپسی پر جماعت اسلامی سے ملاقات کرکے عوام کو ریلیف دینے کے معاملے پر بات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل مشاورت کے بعد جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا ہے کہ وزیراعظم کو ملاقات کا موقع دیا جائے، تاہم اگر ملاقات کے بعد بھی ریلیف نہ ملا تو احتجاج دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ’ہم احتجاج اور لانگ مارچ سے دستبردار نہیں ہوں گے۔‘
ان کے مطابق اکتوبر کا پہلا ہفتہ اور ابتدائی دن احتجاج دوبارہ شروع کرنے کے لیے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے احتجاج کے لیے پلان اے، بی اور سی تیار کیا ہے اور اسلام آباد میں داخلے کے لیے صرف ایک راستہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا ایجنڈا فساد، انتشار یا جھگڑا نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دلانا ہے۔
’اگر حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ ہم سنجیدہ لوگ ہیں اور عوام کے حقیقی مسائل ایڈریس کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی کی پرامن احتجاجی تحریک جاری رہے گی اور حکومت کو یہ مسئلہ حل کرنا ہوگا۔‘
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتیں عام آدمی کے لیے بڑا مسئلہ بن چکی ہیں، جبکہ حکومت ٹیکس وصول کرکے اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کی تحریک میں عوام نے بھرپور شرکت کی ہے، جبکہ تاجروں کے تعاون سے کامیاب ہڑتال بھی کی گئی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کو چند روز کی مہلت دی جا رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی کے 42 شہروں میں جلسے بھی ہو رہے ہیں۔ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وزرا کے ساتھ مذاکرات کے پانچ ادوار ہو چکے ہیں۔
ان کے مطابق مذاکرات کے دوران حکومت نے ایک ریلیف پیکیج دیا، لیکن جماعت اسلامی اسے ناکافی سمجھتی ہے۔ انہوں نے حکومت کے ریلیف پیکیج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خاص طور پر پرانی گاڑیاں رکھنے والے افراد کو مناسب ریلیف نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ریلیف نہیں بلکہ ایک ناٹک ہے‘ اور اس سے بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کو چند روز کی مہلت دی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر جماعت اسلامی طویل احتجاج بھی کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی دس ماہ تک بھی احتجاج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
دوسری جانب وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے نیویارک سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور ان سے اسلام آباد میں دھرنا مؤخر کرنے کی درخواست کی۔
وزیر اعظم آفس کے مطابق حکومت موجودہ مشکل معاشی حالات میں کمزور اور متوسط طبقے کو پیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف فراہم کر رہی ہے اور حکومت اپنی استطاعت کے مطابق عوام کو ریلیف دینے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ بیان کے مطابق حافظ نعیم الرحمان نے وزیر اعظم کی تجویز کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ جماعت اسلامی دھرنا مؤخر کرنے پر غور کر رہی ہے۔

قافلہ کراچی سے روانہ ہوا اور سندھ اور پنجاب کے مختلف ریلوے سٹیشنز سے ہوتا ہوا ملتان پہنچا (فوٹو: اے ایف پی)

یاد رہے کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی مہم کے اگلے مرحلے کے طور پر 20 ستمبر کو کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن سے ’سپر لانگ مارچ‘ کا آغاز کیا تھا۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں مرکزی قافلہ رحمان بابا ایکسپریس کے ذریعے کراچی سے روانہ ہوا اور سندھ اور پنجاب کے مختلف ریلوے سٹیشنز سے ہوتا ہوا ملتان پہنچا۔ راستے میں حیدرآباد، ٹنڈو آدم، نواب شاہ، روہڑی، رحیم یار خان اور دیگر مقامات پر جماعت اسلامی کے کارکنوں اور حامیوں نے قافلے کا استقبال کیا۔
جماعت اسلامی کے اعلان کردہ پروگرام کے مطابق ملتان کے بعد مارچ کے اگلے مرحلے میں روڈ کارواں کے ذریعے لاہور اور پھر لاہور سے اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کی جانی تھی۔ تاہم اب وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر اسلام آباد کی جانب اس لانگ مارچ کو فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔

 

شیئر: