پاکستانی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعمان محمود کو سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ سہ فریقی دفاعی اتحاد کا سربراہ مقرر کیا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست میں ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس سے قبل ستمبر 2025 میں اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دوطرفہ دفاعی معاہدہ بھی ہوا تھا۔ ان معاہدوں کی مکمل عملی تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کی گئی ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق نعمان محمود کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن کے ایران نواز حوثی سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے تیز کر چکے ہیں۔ ایک سعودی قیادت والے اتحاد نے بھی اعلان کیا کہ اس نے ایک ڈرون کو مکہ کے قریب ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے روک لیا۔ حوثیوں نے شہر کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔
مزید پڑھیں
یہ تازہ سعودی-حوثی محاذ اس وسیع تر جنگ کا حصہ بن گیا ہے جو فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔ حالیہ ہفتوں میں حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر باب المندب کے سٹریٹجک علاقے میں بھی پیش قدمی کی ہے، جس سے جہاز رانی اور توانائی کی سپلائی کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بیان میں کہا کہ ’حکومتِ پاکستان لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود (ریٹائرڈ) ہلالِ امتیاز (ملٹری) کی تقرری بطور پہلے سیکریٹری جنرل، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت، کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتی ہے۔ سیکریٹری جنرل ریاض میں قائم ہونے والے اتحاد کے جنرل سیکریٹریٹ کی قیادت کریں گے۔‘
نعمان محمود اس سے قبل پاکستان آرمی کے شمال مغربی علاقے میں ایک اہم کور کی کمان کر چکے ہیں اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے سعودی نیشنل ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اس کی خودمختاری، سلامتی اور اسلام کے مقدس ترین مقامات کے تحفظ میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔‘ انہوں نے حالیہ حوثی حملوں کی مذمت کی۔
PR No.
Press Release
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) September 23, 2026
شہباز شریف نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو ایک مضبوط سٹریٹجک شراکت داری قرار دیا اور دونوں دفاعی معاہدوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کسی نئی فوجی تعیناتی کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ ریاض نے کسی مدد کی درخواست کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’آج شہزادہ محمد بن سلمان کی سرپرستی میں یہ برادری ایک اور مضبوط سٹریٹجک شراکت داری میں ڈھل رہی ہے جو امن، سلامتی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے ہمارے مشترکہ عزم پر مبنی ہے۔ ہم نے فخر کے ساتھ سٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔‘
یہ بیان اس ملاقات کے بعد آیا جو منگل کو اقوامِ متحدہ میں ہوئی جہاں پاکستان، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے سعودی عرب کے دفاع کے حق کو بین الاقوامی قانون کے تحت تسلیم کیا اور وسیع تر علاقائی بحران کے سفارتی حل پر زور دیا۔












