Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ، چین کو ’تنازعے‘ اور ’ٹکراؤ‘ سے بچنا چاہیے: شی جن پنگ

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’صدر شی اور میں نے ایک دوستی قائم کی ہے جو باہمی احترام پر مبنی ہے‘ (فوٹو: اے ایف پی)
چین کے صدر شی جن پنگ نے وائٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہا ہے کہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کو تنازع اور ٹکراؤ سے بچنا چاہیے۔
جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے ملاقات میں ان کا کہنا تھا کہ ’چین اور امریکہ کو اس بات پر قائم رہنا چاہیے کہ ہمارے درمیان کوئی تنازع اور کوئی ٹکراؤ نہ ہو۔ ہماری دونوں افواج کو باقاعدہ مکالمہ جاری رکھنا چاہیے اور بحران کے مواصلاتی و روک تھام کے طریقہ کار کو بہتر بنانا چاہیے۔‘
جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں چینی صدر شی جن پنگ کو تاریخی سرکاری دورے پر شاندار استقبال دیتے ہوئے ان کی ’عظیم دوستی‘ کو سراہا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’صدر شی اور میں نے ایک دوستی قائم کی ہے، دراصل ایک حقیقی عظیم دوستی، جو باہمی احترام اور ہماری عوام کے اہم مفادات پر مبنی ہے۔‘
شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کو ’مواصلات کو مضبوط کرنا‘ چاہیے، اور یہ کہ دونوں ممالک انسانی ترقی کو آگے بڑھانے کی مشترکہ ذمہ داری رکھتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’چین اور امریکہ دو بڑے ممالک کے طور پر انسانی ترقی اور پیشرفت کو آگے بڑھانے کی تاریخی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ ہمیں مواصلات کو مضبوط کرنا چاہیے۔‘
شی جن پنگ نے کہا کہ واشنگٹن اور بیجنگ کی ذمہ داری ہے کہ ’مصنوعی ذہانت کو اچھے مقاصد کے لیے ترقی دیں اور منظم کریں، ہمارے پاس یہ صلاحیت اور ذمہ داری ہے کہ مصنوعی ذہانت کو اچھے مقاصد کے لیے ترقی دیں اور منظم کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی ہمیشہ انسانی کنٹرول میں رہے۔‘

 

شیئر: