Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ نے ایران کی آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز مسترد کر دی

عباس عراقچی نے کہا کہ ’اگر امریکہ کی طرف سے سنجیدگی ہے کہ معاہدہ ہو اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھلے، تو سب کچھ تیار ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایفر پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس میں ٓبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور مشرقِ وسطیٰ میں لڑائی ختم کرنے کی بات کی گئی تھی۔
عرب نیوز کے مطابق ایران نے یہ تجویز نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی تھی اور کہا تھا کہ اسے قطری ثالثوں کے ذریعے امریکہ تک پہنچایا گیا ہے۔ ایران کا کہنا تھا کہ اس سے آبنائے ہرمز سات دن کے اندر دوبارہ کھل سکتی ہے اور خطے میں دشمنی ختم ہو سکتی ہے۔
راہم سنیچر کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں ان کی تجویز کو مسترد کرتا ہوں، میں نے ان کا معاہدہ مسترد کر دیا۔ وہ چاہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز فوراً کھل جائے کیونکہ وہ بُری طرح ہار رہے ہیں۔ ہم جیت رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ چاہتے ہیں کہ معاہدہ ہو اور مجھے بھی معاہدہ کرنا پسند ہے، لیکن وہ جو چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ فوراً آبنائے ہرمز کھل جائے کیونکہ ان کے پاس کوئی آمدنی نہیں ہے، اور ان کی آمدنی ہرمز کی خلیج سے آتی ہے۔‘
امریکہ نے ایران پر اقتصادی ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے تاکہ تہران کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے پر مجبور کیا جا سکے، جس سے جہاز رانی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے دوبارہ دعویٰ کیا کہ امریکہ اس آبی راستے پر قابو رکھتا ہے۔ وال سٹریٹ جرنل نے سب سے پہلے رپورٹ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تجویز کو مسترد کر دیا ہے، اور کہا کہ وہ نجی طور پر شکوک و شبہات رکھتے ہیں کہ ایران ان کے مطالبات پورے کرے گا۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے عملے سے کہا ہے کہ وہ نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد دوبارہ بمباری مہم کو ممکنہ سمجھتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو کبھی ایٹم بم حاصل نہیں کرنا چاہیے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایک امریکی اہلکار نے پہلے کہا تھا کہ ثالثوں کے ذریعے ایران کے ساتھ بات چیت ’مثبت اور تعمیری‘ رہی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو اقوامِ متحدہ میں صحافیوں سے کہا کہ تجویز کردہ معاہدہ سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور خطے میں لڑائی روکنے کا سبب بن سکتا ہے۔
عراقچی نے کہا کہ ’اگر امریکہ کی طرف سے سنجیدگی ہے کہ معاہدہ ہو اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھلے، تو سب کچھ تیار ہے۔‘
اگر امریکہ راضی ہو جاتا تو فریقین وسیع تر بات چیت شروع کر سکتے تھے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام پر بھی بات شامل ہو سکتی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو کبھی ایٹم بم حاصل نہیں کرنا چاہیے، جبکہ ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر کوئی لچک نہیں دکھائے گا، چاہے امریکہ اس کے امن معاہدے کو قبول کر لے۔

ایران اور اس کے اتحادیوں نے خطے بھر میں لڑائی کو بڑھا دیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اہلکار نے کہا کہ ایران اپنے حقوق پر کوئی رعایت نہیں دے گا، بشمول یورینیم کی افزودگی یا اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر بھیجنے کے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سی بی ایس کے پروگرام ’فیس دی نیشن‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ تہران جوہری پروگرام اور دیگر مسائل پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن ’دھونس یا جبر‘ قبول نہیں کرے گا۔
ایران اور اس کے اتحادیوں نے خطے بھر میں لڑائی کو بڑھا دیا ہے۔ ایران نے خلیج میں امریکی اتحادیوں کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے جبکہ یمن میں اس کے حوثی اتحادیوں نے سعودی مفادات کو نشانہ بنایا ہے۔

 

شیئر: