Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

افغانستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری، 28 مارے گئے: پاکستان

پچھلے چند ماہ سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات سخت کشیدگی کا شکار ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے حکام نے کہا ہے کہ پیر کو جنگی جہازوں کے ذریعے افغانستان کے مشرقی حصے میں مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 28 شدت پسند ہلاک ہوئے۔
پیر کو پاکستان کی وزارت اطلاعات نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’پاکستان کے اندر حالیہ متعدد دہشت گردانہ واقعات کے بعد، جن میں خیبر پختونخوا کے معصوم شہری نشانہ بنے، سکیورٹی فورسز نے ایک منظم اور منصوبہ بند انٹیلی جنس پر مبنی زمینی آپریشن کوہاٹ، ہنگو اور تھل کے علاقوں میں کیا۔ اس کے بعد دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں پر فضائی حملے کیے گئے جو ان حملوں کے ذمہ دار تھے۔‘
بیان کے مطابق ’20 ستمبر 2026 کو سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے کوہاٹ اور ہنگو اضلاع میں دہشت گردوں کے ایک گروہ کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا۔ درست اور ماہرانہ کارروائی کے نتیجے میں انڈین پراکسی ’فتنہ الخوارج‘ کے نو خوارج ہلاک کر دیے گئے جبکہ کئی زخمی ہوئے۔‘
مزید کہا گیا کہ ’مستند انٹیلی جنس کی بنیاد پر افغانستان کی سرحدی علاقوں میں فتنہ الخوارج اور اس کے اتحادیوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تین اہداف کو درستگی کے ساتھ تباہ کیا گیا جن میں ایک خودکش بمباروں کا تربیتی مرکز بھی شامل تھا۔ اس کارروائی میں 28 دہشت گرد اور متعدد خودکش بمبار مارے گئے۔ ان مراکز اور ٹھکانوں میں موجود بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کر دیا گیا۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کوشاں رہا ہے۔ تاہم اپنے شہریوں کی حفاظت اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے۔ یہ انتہائی تشویش ناک امر ہے کہ افغانستان بدستور دہشت گردی کا گڑھ بنا ہوا ہے اور پاکستان کو درپیش خطرہ افغانستان سے جنم لیتا ہے۔ اسی تناظر میں ہماری کارروائیوں نے صرف دہشت گردوں کے مراکز کو نشانہ بنایا۔ زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں تاکہ کسی قسم کا ضمنی نقصان نہ ہو۔‘
وزارت اطلاعات کے مطابق ’پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انسدادِ دہشت گردی مہم ’غضب للحق‘ کو وژن ’عزمِ استحکام‘ کے تحت پوری رفتار سے جاری رکھیں گے تاکہ ملک سے غیرملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔‘
 

افغان حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

ان حملوں سے قبل پاکستان کی جانب سے وارننگ دی گئی تھی کہ سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز پر حالیہ دنوں کے دوران ہونے والے دو مہلک حملوں کے بعد افغانستان کے اندر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
حالیہ برسوں کے دوران پاکستان کی پولیس اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان فروری سے اب تک ہونے والی جھڑپوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں کے بعد افغانستان نے بھی جوابی کارروائیاں شروع کی تھیں۔
اسلام آباد کے حکام تشدد کا زیادہ تر ذمہ دار پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) اور اس سے وابستہ عسکریت پسندوں کے گروہوں کو قرار دیتے ہیں، پاکستانی طالبان 2021 میں اقتدار میں آنے والے افغان طالبان سے الگ تنظیم ہے تاہم ان کو افغان طالبان کا اتحادی سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان کے دو سکیورٹی حکام نے پیر کے روز بتایا کہ فضائی حملوں میں 28 مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے تاہم افغان حکومت کا کہنا ہے کہ حملوں میں تین شہری ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔
دونوں جانب سے ہونے والے دعوؤں کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر جاری کیے گئے ایک بیان میں فضائی حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ اس کا جواب دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اس جارحیت اور ظلم کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اس کے ذریعے ایک بار پھر سکیورٹی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی۔
افغان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کا کہنا ہے کہ صبح تین بجے کے قریب صوبہ کنڑ اور پکتیکا کے علاقوں نرگل اور برمل کو نشانہ بنایا گیا۔

اس سے قبل بھی کئی بار دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں ہو چکی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

 نرگل کے علاقے پٹھان گاؤں میں نور احمد نامی شخص کا گھر حملوں کی زد میں آ کر تباہ ہوا، جس کے نتیجے میں ان کے گھر کے دو افراد ہلاک اور چار رشتہ دار زخمی ہوئے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ برمل کے رخہ اور تورنڈی علاقوں میں ہونے والے حملوں سے ایک دکان اور ایک خالی مکان تباہ ہوا تاہم ان حملوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
یہ حملے خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں عسکریت پسندوں کے سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے بعد کیے گئے ہیں، ان حملوں میں دو فوجی افسران سمیت چھ اہلکار جان سے گئے تھے۔
اس سے ایک روز قبل کوہاٹ شہر میں پولیس کمپاؤنڈ پر حملہ کیا تھا جبکہ ایک خودکش دھماکہ بھی ہوا، جس کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات نے سنیچر کو خبردار کیا تھا کہ ملک میں ہونے والے حملوں کے جواب میں پاکستان افغانستان کے اندر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

 

شیئر: