Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وہ پُراسرار افراد کون تھے جنہوں نے ’فلائی دبئی‘ کا طیارہ تباہی سے بچایا؟

دوسری قطار میں بیٹھے ڈینیئل شلشٹر نے کہا کہ ’یہ ایک معجزے سے کم نہیں۔‘ (فوٹو: اے پی)
فلائی دبئی کی اس پرواز کو، جو ایک خطرناک حادثے کی طرف تیزی سے بڑھ رہی تھی، محفوظ بنانے والے وہ دو پائلٹ آخر کون تھے؟
امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق واقعے کے تین دن بعد بھی ان دو وردی پوش عملے کے ارکان کی شناخت عوامی سطح پر ظاہر نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کاک پٹ میں داخل ہو کر اسرائیل جانے والی اس پرواز کو سنبھالا تھا، جس میں 182 مسافر سوار تھے اور جو اچانک شدید نیچے گرنے کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی تھی۔
فلائی دبئی نے صرف اتنا بتایا ہے کہ یہ دونوں ڈیوٹی پر موجود عملے کے ارکان تھے جو اسی طیارے میں سفر کر رہے تھے۔ یہ واضح نہیں کہ ایئر لائن نے ان کے بارے میں مزید معلومات کیوں فراہم نہیں کیں۔
تاہم طیارے کی اگلی نشستوں پر موجود ایک مسافر نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو ان افراد کی کارروائی کے بارے میں تفصیلی معلومات دیں، جنہیں اب تک مناسب انداز میں خراجِ تحسین نہیں دیا گیا۔
دوسری قطار میں بیٹھے ڈینیئل شلشٹر نے کہا کہ ’یہ ایک معجزے سے کم نہیں۔ ہر پرواز میں اضافی دو پائلٹ نہیں ہوتے۔ اس معاملے میں انہیں اس لیے ساتھ لایا گیا تھا کہ تل ابیب سے واپسی پر جہاز دوبئی لے جانا تھا، اور یہی وجہ تھی کہ وہ وہاں موجود تھے۔‘
ہوابازی کی اصطلاح میں اس عمل کو ڈیڈ ہیڈنگ کہا جاتا ہے جس میں پائلٹ یا عملے کے ارکان بطور مسافر سفر کرتے ہیں تاکہ بعد میں کسی دوسرے سیکٹر میں ڈیوٹی انجام دے سکیں۔
یہ دونوں افراد اس وقت حرکت میں آئے جب چیختے ہوئے مسافروں کو معلوم ہوا کہ کاک پٹ کے اندر کیا ہو رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق معاون پائلٹ بار بار کپتان پر حملہ کر رہا تھا اور کاک پٹ خون سے بھر گیا تھا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود کپتان کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو گیا۔
جب ایک مسافر نے معاون پائلٹ کو پکڑ کر کاک پٹ سے باہر نکالا اور دوسرے افراد اسے قابو کرنے کی کوشش میں مصروف ہو گئے، تو شلشٹر کے مطابق سفر کرنے والے اضافی پائلٹوں میں سے ایک تقریباً لوگوں کے اوپر سے چھلانگ لگاتے ہوئے کاک پٹ میں داخل ہوا اور جہاز کے کنٹرول سنبھال لیے۔

شلشٹر سمیت دیگر مسافروں کو معلوم نہیں تھا کہ یہ دونوں افراد کہاں سے آئے تھے (فوٹو: اے پی)

شلشٹر نے کہا کہ ’وہ ان لوگوں کے اوپر سے تقریباً کودتا ہوا گزرا جو حملہ آور کو قابو کر رہے تھے اور سیدھا پائلٹ کی نشست تک پہنچ کر جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس کے بعد دوسرا پائلٹ بھی اندر آ گیا اور دونوں نے دروازہ بند کر لیا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی اور وہاں موجود ہو۔‘
شلشٹر سمیت دیگر مسافروں کو معلوم نہیں تھا کہ یہ دونوں افراد کہاں سے آئے تھے، لیکن ان کے مطابق پہلا پائلٹ غیر معمولی سرعت سے کارروائی میں آیا۔
انہوں نے کہا کہ ’اس نے ایک حقیقی ہیرو کی طرح کام کیا۔ اس نے فوراً جہاز سنبھال لیا اور ایسے ردِعمل کا مظاہرہ کیا جیسے اسے پوری صورتِ حال کی مکمل سمجھ ہو۔ میرا خیال ہے کہ ہماری زندگیاں ان ہیروز کی مرہونِ منت ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ان دوسرے بہادروں کی جنہوں نے پرواز میں مداخلت کی۔‘
کاک پٹ کا دروازہ بند ہونے کے بعد شلشٹر کو معلوم نہ ہو سکا کہ اندر کیا کچھ ہو رہا تھا۔ ان کے مطابق جہاز کو دوبارہ مستحکم کرنے میں ’کافی منٹ‘ لگے، شاید دس منٹ یا اس سے بھی زیادہ، جبکہ شدید غوطہ لگانے کے دوران جہاز کے رڈر کا ایک حصہ بھی ٹوٹ گیا تھا۔
اسی دوران ایک مے ڈے کال بھی کی گئی جبکہ دونوں پائلٹ ہنگامی طور پر کسی محفوظ ہوائی اڈے کی تلاش میں تھے۔
دوسری جانب خوف زدہ مسافر ان نامعلوم افراد کے بارے میں سوچ رہے تھے اور یہ بھی فکر مند تھے کہ آیا ان پر اعتماد کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

تقریباً 45 منٹ بعد پائلٹوں نے اعلان کیا کہ وہ سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کریں گے (فوٹو: روئٹرز)

شلشٹر نے کہا کہ ’جب انہوں نے جہاز کو مستحکم کر لیا تو کافی دیر تک انہوں نے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا، اور سچ یہ ہے کہ میں اس بات پر پریشان تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں ایک اور بدترین خدشہ لاحق تھا اور ’میں سوچ رہا تھا کہ کہیں یہ لوگ جہاز کو اغوا کر کے ایران یا کسی اور جگہ تو نہیں لے جا رہے، کیونکہ ہم وہاں سے زیادہ دور بھی نہیں تھے۔‘
لیکن تقریباً 45 منٹ بعد پائلٹوں نے اعلان کیا کہ وہ سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کریں گے اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
شلشٹر کے مطابق ’اس اعلان کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ ان پر اعتماد کرنا چاہیے۔‘
اور آخرکار ان کا اعتماد درست ثابت ہوا، کیونکہ جہاز محفوظ طریقے سے لینڈ کر گیا اور تمام مسافر بچ گئے۔

 

شیئر: