فلائی دبئی واقعے کے بعد اسرائیلیوں کی وطن واپسی، پہلی پرواز تل ابیب پہنچ گئی
اسرائیلی میڈیا نے اس پرواز کو وطن واپسی کے لیے خصوصی پرواز قرار دیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
فلائی دبئی طیارے میں پیش آنے والے حملے کے بعد پروازوں کی معطلی کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات میں پھنسے اسرائیلی شہریوں کو وطن واپس لانے والی پہلی پرواز سنیچر کی علی الصبح تل ابیب پہنچ گئی۔
اسرائیلی ایئرپورٹ اتھارٹی کی ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی فضائی کمپنی ’ارکیا‘ کی پرواز دبئی سے روانہ ہو کر مقامی وقت کے مطابق رات ایک بجے کے کچھ دیر بعد بن گوریون ایئرپورٹ پر اتری۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے اس پرواز کو وطن واپسی کے لیے خصوصی پرواز قرار دیا ہے۔ اس کی روانگی بدھ کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آنے والے واقعے کے بعد ہوئی، جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ طیارہ ایک بڑے سانحے سے بال بال بچا۔
فلائی دبئی کی پرواز کے دوران انڈین کپتان پر ان کے معاون پائلٹ نے حملہ کیا تاہم کپتان کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس کے بعد مسافروں اور عملے نے حملہ آور کو قابو کیا اور طیارے کو ہنگامی طور پر سعودی عرب میں اتار لیا گیا۔
متحدہ عرب امارات کے حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اب تک حملہ آور کے محرکات کا تعین نہیں ہوسکا۔ تاہم اسرائیلی اور امریکی رہنماؤں نے واقعے کے ممکنہ طور پر اسلامی شدت پسندی یا ایران سے تعلق کی جانب اشارہ کیا ہے۔
مسافروں کو واپس لانے کے لیے سنیچر کو اسرائیلی فضائی کمپنی ’ارکیا‘ کی پرواز جمعے کو دبئی سے روانہ ہوئی تھی۔ فلائی دبئی کی جانب سے اسرائیل کے لیے پروازیں معطل کیے جانے اور اسرائیلی فضائی کمپنی ’ال عال‘ کی اسرائیلی شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے مقررہ پروازیں منسوخ کیے جانے کے بعد یہ متحدہ عرب امارات سے روانہ ہونے والی پہلی اسرائیلی پرواز تھی۔
