Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فلائی دبئی واقعے کے پیچھے کارفرما طاقت کو ’بہت بھاری قیمت‘ چکانا پڑے گی: نیتن یاہو

واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ شریک پائلٹ نے یہ قدم کیوں اٹھایا (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ فلائی دبئی واقعے کے پیچھے اگر کوئی بھی طاقت ملوث ہوئی تو اسرائیل اس سے ’بہت بھاری قیمت‘ وصول کرے گا تاہم انہوں نے اپنے اس بیان کے حق میں کسی ملک کو ذمہ دار ٹھہرانے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیتن یاہو نے جمعے کو ایک بیان میں کہا ’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صورتحال مزید واضح ہو رہی ہے۔ حملہ آور اسلامی شدت پسندی کی جانب راغب ہوا تھا۔ وہ طیارے میں سوار تمام مسافروں سمیت اسے تباہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔‘
حملہ آور معاون پائلٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا ’ہم اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اسے بھیجا گیا تھا، اور جس کسی نے بھی اسے بھیجا ہے، اسے اس کی بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔‘
نیتن یاہو نے واضح طور پر کسی بھی ملک کا نام ممکنہ ملزم کے طور پر نہیں لیا تاہم وہ سالہا سال سے فوری طور پر ایران کی طرف اشارہ کرنے کی شہرت رکھتے ہیں، جس پر اسرائیل اور امریکہ نے فروری میں حملہ کیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ ’سن رہے ہیں‘ کہ اس واقعے میں ایران ملوث تھا اور اگر ایسا ثابت ہوا تو اس ملک پر ’بہت شدید ضرب‘ لگائی جائے گی۔
اسرائیل اور امریکہ 1979 میں قائم ہونے والی ایران کی شیعہ مذہبی حکومت کو دنیا بھر میں ہونے والے متعدد حملوں سے جوڑتے رہے ہیں۔ تاہم جہاز اغوا یا ان سے ملتے جلتے واقعات کے ساتھ ایران کے تعلق کے شواہد شاذ و نادر ہی ملے ہیں، کیونکہ اس قسم کے حملے 11 ستمبر 2001 کے واقعات میں القاعدہ اور 1960 و 1970 کے دہائیوں میں ’پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف پیلسٹائن‘ کا طرہ امتیاز رہے ہیں۔
اس سے قبل نیتن یاہو نے کہا تھا کہ پائلٹ کا تعلق عمان سے تھا اور انہوں نے اس امکان کو بھی رد نہیں کیا تھا کہ وہ ذہنی تناؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق تل ابیب جانے والی بدھ کی اس پرواز کے معاون پائلٹ نے انڈین پائلٹ پر چھری سے حملہ کیا جس کے بعد پائلٹ نے مسافروں کو کاک پٹ میں داخل ہونے دیا تاکہ حملہ آو ر پر قابو پایا جا سکے۔ بعد ازاں طیارے نے سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کی اور اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

 

شیئر: