ریاض کو نشانہ بنانے کے حوثی دعوے گمراہ کن ہیں: ترجمان عرب اتحاد
یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے سنیچر کو حوثی ملیشیا کے اس دعوے کو گمراہ کن قرار دیا ہے جس میں انہوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ’الشرق الاوسط‘ کو بتایا ’حوثی ملیشیا کو تعز میں جس صورتحال کا سامنا ہے اور یمنی مسلح افواج اور عوامی مزاحمت کے بہادروں کے ہاتھوں تمام محاذوں پر اس گروہ کے کارندوں کے جانی نقصان کا جو منظر ہم دیکھ رہے ہیں، وہ انہیں خیالی و فرضی فتوحات کی تلاش پر مجبور کر رہا ہے۔‘
انہوں نے ان دعوؤں کو ’اپنے بھاری نقصان اور ملیشیا کے رویے کے خلاف عوامی غصے سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش‘ قرار دیا نیز ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ملیشیا غیر ملکی ایجنڈوں سے جڑی ہوئی ہے جو یمن میں تباہی اور افراتفری لائے ہیں۔‘
ایران کے زیرِ سرپرستی چلنے والے اس گروہ نے ریاض کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایک ایسے وقت میں کیا جب متحدہ یمنی افواج مغربی ساحل پر ان کے حملوں اور قدم جمانے کی کوششوں کو ناکام بنا رہی تھیں۔
حالیہ یمنی رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس گروہ نے ایک ہفتے میں تقریباً 5000 جنگجو کھو دیے ہیں جبکہ یمنی مسلح افواج حوثیوں کے نشانہ بنائے گئے مختلف محاذوں پر فضائی اور زمینی فوجی کارروائیوں کا ایک سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یمنی مسلح افواج نے سنیچر کی شام بتایا کہ انہوں نے جنگی طیاروں، ڈرونز، توپ خانے، میزائلوں اور راکٹ لانچرز کا استعمال کرتے ہوئے حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں، نقل و حرکت اور فوجی صلاحیتوں کے خلاف 257 کارروائیاں انجام دیں۔
مسلح افواج کے سرکاری ترجمان کرنل ماجد النزیلی کے مطابق ان کارروائیوں کا دائرہ کار صنعاء، میدی، باقم، اور الجوف، مأرب، البيضاء اور لحج کے محاذوں تک پھیلا ہوا تھا جبکہ بنیادی توجہ تعز کے محاذوں پر تھی۔
انہوں نے بتایا کہ اہداف میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، حوثیوں کا اجتماع اور کمکی دستے، جنگی ذخائر، اسلحه و بارود کے ڈپو، اور ملٹری سپلائی کی لائنز اور سامان شامل تھے۔
