سلمیٰ جیو پارک: غیر معمولی قدرتی خزانوں اور آثار قدیمہ کا مرکز
اس پارک کا رقبہ تین ہزار 145 مربع کلو میٹر سے زیادہ ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
حائل ریجن میں واقع سلمیٰ جیو پارک منفرد چٹانی تشکیلیں، آتش فشانی مقامات اور تاریخی شواہد کو یکجا کرتا ہے۔ یہ پارک سیاحوں کو علاقے کے ارضیاتی ورثے اور قدیم انسانی آباد کاری کے تعلق کو دریافت کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق اس پارک کو اپریل 2025 میں یونیسکو کے عالمی جیو پارکس نیٹ ورک میں باضابطہ طور پر شامل کیا گیا تھا۔ پارک کا رقبہ تین ہزار 145 مربع کلو میٹر سے زیادہ ہے اور سطح سمندر سے اس کی بلندی 1380 میٹر ہے۔
نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور ڈیویلپمنٹ اینڈ کومبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبداللہ البریکی نے کہا کہ سلمیٰ جیو پارک اپنی منفرد جیولوجیکل ساخت کی وجہ سے نمایاں حیثیت کا حامل ہے۔
’آتش فشانی چٹانی تشکیلیں، قدرتی ریکارڈ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ پارک مختلف ادوار میں زمین کی تاریخ اور اس کے ارتقائی مراحل کے اہم حصے کے محفوظ کیے ہوئے ہیں۔‘
ڈاکٹر البریکی نے کہا کہ ’اس مقام کی غیرمعمولی اہمیت اس کے قدرتی خزانوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے اطراف میں موجود تاریخی آثار قدیمہ بھی اس کی اہمیت میں اضافے کا باعث ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ان میں ’فید شہر اور تاریخی درب زبیدہ‘ قابل ذکر ہیں جو پارک کے قدرتی حسن کے ساتھ ثقافتی پہلو کا اضافہ کرتے اور اسے سیاحوں کے لیے منفرد مقام بناتے ہیں۔
ڈاکٹر البریکی نے انسانی ورثے کو بھی جیو پارک کی نمایاں خصوصیات میں شمار کیا اور بتایا یہاں مختلف ادوار میں انسانی موجودگی کے شواہد ملتے ہیں۔

سلمیٰ جیو پارک کو عالمی جیو پارکس نیٹ ورک میں شامل کیے جانے سے اس کے قدرتی اور انسانی ورثے کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا گیا۔
