Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قدیم آتش فشاں نے حائل کے تاریخی ’طابہ گڑھے‘ کو کیسے تشکیل دیا؟

فوہہ طابہ ارضیاتی تاریخ اور انسانی آبادی کے قدیم آثار دیکھنے کو ملتے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
حائل شہر کے جنوب مشرق میں سلمیٰ پہاڑی سلسلے کے اطراف میں واقع ’فوہہ طابہ‘ ہزاروں برس قبل ہونے والی آتش فشانی سرگرمی کے نتیجے میں وجود میں آیا۔
ایس پی اے کے مطابق ان آتش فشانی سرگرمیوں کے نتیجے میں وجود میں آنے والے ’فوہہ‘ (گڑھا) کے مقام پر قدیم گاؤں ’طابہ‘ آباد کیا گیا تھا جہاں خطے کی ارضیاتی تاریخ اور انسانی آبادی کے قدیم آثار ایک ساتھ دیکھنے کو ملتے ہیں۔
فوہہ طابہ میں چٹانوں کی مختلف ساختیں اور آتش فشانی راکھ کی یکے بعد دیگرے بننے والی تہیں موجود ہیں جن میں وقت کے ساتھ ساتھ سخت ہو جانے والی راکھ اور مسام دار پتھر بھی شامل ہیں۔
یہ آثار شمالی مملکت میں قدیم آتش فشانی سرگرمی کے شواہد محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ طابہ گاؤں حائل شہر سے تقریباً 90 کلو میٹر دور ہے اور انتظامی طور پر ’الشنان‘ کمشنری کے تحت آتا ہے۔
اسے خطے کے قدیم ترین دیہات میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ مملکت کے اندر اور بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔

الشنان کمشنری میں کھیتوں اور نخلستانوں کے علاوہ قدیم کنویں اور تاریخی نقوش بھی موجود ہیں جو اس مقام کے قدرتی اور ثقافی ورثے کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔

شیئر: