ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز: شاہد آفریدی کی قیادت میں پاکستانی ٹیم کو اچانک ٹورنامنٹ سے دستبردار کیوں ہونا پڑا؟
ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز: شاہد آفریدی کی قیادت میں پاکستانی ٹیم کو اچانک ٹورنامنٹ سے دستبردار کیوں ہونا پڑا؟
منگل 6 اکتوبر 2026 19:46
پاکستان چیمپئنز کی قیادت شاہد آفریدی کرنے والے تھے (فوٹو: کرک انفو)
پاکستان چیمپئنز نے ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز (ڈبلیو سی ایل) سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے، کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیم کو شرکت کے لیے درکار نو آبجیکشن سرٹیفیکیٹ (این او سی) جاری کرنے سے انکار برقرار رکھا ہے۔
کرک انفو کے مطابق یہ فیصلہ گذشتہ سال پی سی بی کے اس مؤقف کا تسلسل ہے جس میں بورڈ نے ٹورنامنٹ پر ’منافقت اور جانب داری‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقابلے میں کھیل کو سیاست سے آلودہ کیا گیا، لہٰذا مستقبل میں اس ایونٹ میں پاکستانی شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پاکستان چیمپئنز نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہم افسوس کے ساتھ تصدیق کرتے ہیں کہ پی سی بی کی جانب سے مطلوبہ این او سی جاری نہ کرنے کے فیصلے کے باعث ٹیم جاری ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں شرکت نہیں کر سکے گی۔‘
بیان کے مطابق ٹیم کے مالک کامل خان نے پی سی بی سے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی تھی اور شرکت کے حوالے سے مسلسل رابطے میں تھے، تاہم کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
ٹیم نے کہا کہ وہ پی سی بی کے اختیار اور فیصلے کا احترام کرتی ہے، اگرچہ اس بات پر مایوسی ہے کہ کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر کرکٹ لیجنڈز کے اجتماع میں پاکستان چیمپئنز کی نمائندگی کا موقع نہیں ملے گا۔
رواں سال ٹورنامنٹ کا آغاز 3 اکتوبر کو انڈیا اور آسٹریلیا کے درمیان میچ سے ہوا تھا، جبکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کا میچ اس امید پر مؤخر کیا گیا تھا کہ پی سی بی اور منتظمین کے درمیان معاملہ حل ہو جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق ایونٹ کے منتظمین پاکستان کے میچز کو دوبارہ شیڈول کرنے پر بھی آمادہ تھے، لیکن آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کا میچ قریب آنے کے باوجود این او سی کے معاملے میں کوئی پیش رفت نہ ہونے پر دستبرداری ناگزیر ہو گئی۔
پی سی بی کا مؤقف گذشتہ سال اُس وقت مزید سخت ہو گیا تھا جب انڈیا نے پاکستان کے خلاف دو میچ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا (فائل فوٹو: پاکستان چیمپئنز)
پاکستان چیمپئنز کی قیادت شاہد آفریدی نے کرنا تھی، جبکہ سکواڈ میں شعیب ملک، محمد حفیظ، سرفراز احمد اور وہاب ریاض جیسے سابق قومی کھلاڑی بھی شامل تھے۔
پی سی بی کا مؤقف گذشتہ سال اُس وقت مزید سخت ہو گیا تھا جب انڈیا نے پاکستان کے خلاف دو میچ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا، جن میں سیمی فائنل بھی شامل تھا۔
اگرچہ پاکستان کو سیمی فائنل میں واک اوور ملا تھا، تاہم پی سی بی نے خاص طور پر اس بات پر اعتراض کیا تھا کہ گروپ مرحلے میں انڈیا کے دستبردار ہونے کے باوجود اسے ایک پوائنٹ دے دیا گیا، جسے بورڈ نے عالمی کھیلوں کی برادری کے لیے ’ناقابل قبول پیغام‘ قرار دیا تھا۔