Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاض ایئرپورٹ: نئے حملے میں پاکستانی شہری کی ہلاکت، 11 افراد زخمی

بیان کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا( فوٹو: اے ایف پی)
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتوار کی دوپہر حوثیوں کے نئے حملے میں ایک مقیم پاکستانی کی موت واقع ہوگئی جبکہ گیارہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سعودی جنرل اتھارٹی  آف سول ایوی ایشن نے پیر کی صبح بیان میں کہا کہ تمام زخمیوں کو فوری طور پر علاج کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق بیان میں کہا گیا حملے میں ہونے والے مادی نقصان کا ابھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ حوثیوں نے اتوار کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نیا حملہ کیا ہے جبکہ دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی دوبارہ نشانہ بنایا گیا۔
اتھارٹی نے بیان میں کہا  تھا کہ ریاض ایئر پورٹ پر حملے کے نتیجے میں کئی  زخمی ہوئے ہیں۔ متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر دونوں ایئرپورٹس پر نقصانات کا جائزہ لینے کے ساتھ ایئرپورٹ فیسیلیٹی کا سیفٹی انسپکشن کیا جا رہا ہے۔
یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحادی افواج کے ترجمان  نے بیان میں کہا فضائی دفاعی نظام  نے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک کروز میزائل کو روک کر تباہ کردیا۔
ایک علیحدہ بیان میں ترجمان نے کہا تھا کہ ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل چار کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل (میزائل) سے نشانہ بنایا گیا جس سے آگ لگ گئی۔ حکام  موقع پر پہنچ گئے، واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یاد رہے ایک دن قبل سنیچر کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے میں 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے  اس حملے کا سخت اور حتمی جواب دینے کا عزم ظاہر کیا۔
اتحادی افواج کے ترجمان نے کہا کہ سنیچر کو ایئرپورٹ کے مسافر ترمینل پر ہونے والا یہ حملہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی روشنی میں ایک سنگین جنگی جرم ہے۔
ترکی المالکی کا کہنا تھا ’شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ دہشت گردی کی کھلی کارروائی ہے اور اس کا نہایت سخت اور موثر جواب دیا جائے گا۔‘

شیئر: