ریاض ایئرپورٹ حملہ: ’والد کے سر کو چوما اور خدا حافظ کہا‘، چھ بچوں کے فلسطینی والد کی کہانی
جدہ واپسی کی فلائٹ کے وقت احمد خود اپنے والد کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ چھوڑنے گئے (فوٹو: سپلائیڈ)
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 10 اکتوبر کو ہونے والے حملے میں جان سے جانے والے 63 سالہ فلسطینی شہری طلال الدھانی اپنے بیمار رشتہ داروں کی عیادت کے بعد جده میں موجود اپنے اہلخانہ کے پاس واپس لوٹ رہے تھے جب یہ المناک واقعہ پیش آیا۔
عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب میں پیدا ہونے والے اور وہیں پرورش پانے والے طلال الدھانی چھ بچوں کے باپ اور اپنے خاندان کے واحد کفیل تھے۔
ان کے بیٹے احمد الدھانی نے اپنے والد کو ایک پرعزم، محنتی، مثبت سوچ رکھنے والے اور خاندان کے لیے سہارے کی ایک مستقل علامت کے طور پر یاد کیا ہے۔
احمد الدھانی جو خود ریاض میں مقیم ہیں کے مطابق ان کے والد ایک بیمار رشتہ دار کی عیادت کے لیے جدہ سے ریاض آئے تھے۔ جس کے بعد دونوں اپنے بھائی خلیل طلال سے ملنے حفر الباطن گئے۔
وہاں سے واپسی پر طلال الدھانی نے ریاض میں ہی اپنے بیٹے کے پاس قیام کیا، جہاں ان کا بیٹا انہیں مختلف امور کی انجام دہی کے لیے ساتھ لے جاتا رہا۔
جدہ واپسی کی فلائٹ کے وقت احمد خود اپنے والد کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ چھوڑنے گئے۔
احمد نے اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے بتایا ’رخصت ہونے سے پہلے میں نے اپنے والد کے سر اور ہاتھ کو چوما اور ان سے درخواست کی کہ جہاز میں سوار ہوتے ہی مجھے فون کریں۔‘
بعد میں ان کی والد سے فون پر بات بھی ہوئی جس میں طلال الدھانی نے بتایا کہ وہ بورڈنگ گیٹ پر پہنچ چکے ہیں۔ تاہم گھنٹوں گزر جانے کے باوجود جب والد کا فون بند آتا رہا تو احمد الدھانی کو تشویش لاحق ہوئی۔
وہ فوراً ایئرپورٹ پہنچے لیکن وہاں کے راستے بند کر دیے گئے تھے اور انہیں بتایا گیا کہ واقعے کے بعد مسافروں کو ہسپتالوں اور ہوٹلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
احمد نے اپنے والد کا سراغ لگانے کے لیے ہسپتالوں اور ہوٹلوں سمیت متعدد جگہوں کی خاک چھانی۔ تلاش کا یہ سلسلہ دیر رات تک جاری رہا، بالآخر ایک رشتہ دار نے طلال الدھانی کو ریاض کے الشمیسی ہسپتال میں ڈھونڈ نکالا۔
اہلخانہ کو پہلے یہ بتایا گیا کہ ان کی حالت تشویش ناک ہے لیکن بعد میں ان کی وفات کی خبر سامنے آئی۔
طلال الدھانی کی اہلیہ نورا خلیل بھی سعودی عرب میں ہی پیدا ہوئی تھیں اور وہ دونوں ساتھ جدہ میں مقیم تھے۔ اپنے والد کی شخصیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے احمد الدھانی نے بتایا کہ وہ ہر ماحول میں ڈھل جانے والے، لوگوں سے محبت کرنے والے اور خاندان کے لیے گہرا احساسِ ذمہ داری رکھنے والے انسان تھے۔ وہ ایک باشرع شخص تھے جو باقاعدگی سے مسجد جاتے اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے تھے۔
احمد کے دل کے قریب اپنے والد سے جڑی ایک یاد اب بھی تازہ ہے۔
حفر الباطن کے حالیہ سفر کے دوران ان کے والد نے اپنی زندگی کے حالات و واقعات تفصیل سے سنائے تھے جنہیں احمد الدھانی نے گہرے شوق سے سنا۔
اہل خانہ نے طلال الدھانی کو ریاض ہی میں سپردِ خاک کر دیا ہے جبکہ جدہ میں ان کے رشتہ دار اور دوست احباب تعزیت کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔
احمد نے اس حادثے کے بعد تعاون فراہم کرنے پر سعودی حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اہلکاروں نے والد کی تلاش میں خاندان کی مدد کی اور تدفین کے مراحل کو آسان بنایا۔
