’میں نے اپنے بھائی کو ہوا میں اُچھلتے دیکھا‘، ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں زخمی ہونے والے شخص کی دردناک داستان
منگل 13 اکتوبر 2026 18:35
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں زندہ بچ جانے والے ایک شخص ناصر الرویلی نے عرب نیوز سے اس ہولناک لمحے کی رُوداد بیان کی ہے۔
ناصر الرویلی نے بتایا کہ جب وہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے اپنے معذور بھائی کے ہمراہ مکہ کی پرواز میں سوار ہونے کے لیے آئے کہ اچانک ٹرمینل پر میزائل آگرا۔
اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ حملے کے وقت وہ اپنے معذور بھائی کو وہیل چیئر پر بٹھا کر گیٹ نمبر چار کے قریب لے جا رہے تھے۔
’ہم عمرہ ادا کرنے کے لیے مکہ جانے والی پرواز پر سوار ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔ میں اپنے معذور بھائی کی وہیل چیئر کو دھکیل رہا تھا کہ اچانک گیٹ نمبر چار پر ایک میزائل آگرا اور پھر میں نے اپنے بھائی کو ہوا میں اُچھلتے دیکھا۔’
انہوں نے بتایا کہ ’اس حملے میں میرے بھائی محفوظ رہے، جس پر میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔‘ میزائل کے اس حملے کے دوران ناصر الرویلی کے جسم کے بعض حصے بھی جُھلس گئے۔
زخمی حالت میں ہسپتال کے بستر سے بات کرتے ہوئے انہوں نے سعودی عرب سے اپنی وفاداری کا اظہار کیا اور کہا کہ ’ہم اپنے وطن کے لیے اپنا خون تک قربان کر دیں گے۔‘
انہوں نے حملے میں زخمی ہونے والے افراد کو طبی سہولیات اور مدد فراہم کرنے پر سعودی فرمانروا شاہ سلمان، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیرِ صحت کا شکریہ ادا کیا۔
ناصر الرویلی نے سوشل میڈیا کے ذریعے شہری تنصیبات پر حملوں کے عام افراد کی زندگیوں پر اثرات کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی کہانی سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ ایسے حملوں سے کس طرح ایک لمحے میں لوگوں کی زندگیاں بدل سکتی ہیں۔
