فیصل آباد میں کاروباری شخصیت کا قتل: ویلے پارکنگ سروس کیا ہے اور کتنی محفوظ ہے؟
فیصل آباد میں کاروباری شخصیت کا قتل: ویلے پارکنگ سروس کیا ہے اور کتنی محفوظ ہے؟
منگل 20 اکتوبر 2026 6:22
ثوبان افتخار راجہ -اردو نیوز، اسلام آباد
17 اکتوبر کی رات فیصل آباد میں کاروباری شخصیت ریحان اشرف اپنے بھائی اور کزنز کے ہمراہ ڈنر کے لیے چناب کلب پہنچے (فوٹو: حسن اشرف)
فیصل آباد میں ویلے پارکنگ سے گاڑی چوری کی واردات میں ریحان اشرف کے قتل کے بعد یہ سوال سامنے آیا ہے کہ آخر یہ ویلے پارکنگ سروس کیا ہے؟ کیسے کام کرتی ہے؟ اور صارفین کے لیے کتنی زیادہ محفوظ ہے؟
ویلے پارکنگ سروس کیا ہے؟
کسی مہنگے ریسٹورینٹ، ہوٹل یا کسی دوسری کاروباری جگہ پر آپ کو پارکنگ کی سہولیات فراہم کرنے والے سروسز ویلے پارکنگ سروس کہلاتی ہیں جہاں ایک ویلے اٹینڈنٹ آپ سے گاڑی لیتا اسے پارک کرتا ہے اور جب آپ وہ ریسٹورینٹ یا ہوٹل چھوڑتے ہیں تو مختص جگہ پر گاڑی آپ کے حوالے کر دیتا ہے۔
17 اکتوبر کی رات فیصل آباد میں کاروباری شخصیت ریحان اشرف اپنے بھائی اور کزنز کے ہمراہ ڈنر کے لیے چناب کلب پہنچے۔ وہاں انھوں نے اپنی گاڑی ویلے اٹینڈنٹ کے حوالے کی، تاہم کچھ ہی دیر بعد ان کے فون پر گاڑی میں نصب ٹریکر سے الرٹ موصول ہوا کہ گاڑی اپنی جگہ سے حرکت کر چکی ہے۔ یہ ان کے لیے تشویش کا باعث تھا، کیونکہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا اور الرٹ سے ظاہر ہو رہا تھا کہ گاڑی پارکنگ ایریا سے نکالی گئی ہے۔
ریحان اشرف فوری طور پر ڈائننگ ہال سے باہر نکلے اور پارکنگ ایریا کی طرف دوڑے، لیکن وہاں نہ گاڑی موجود تھی اور نہ ہی وہ ویلے اٹینڈنٹ جس نے ان سے چابی وصول کی تھی۔
کچھ دیر کی بھاگ دوڑ کے بعد انھوں نے ٹریکر کمپنی اور پولیس ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کیا۔ ٹریکر کمپنی نے گاڑی کی لائیو لوکیشن فراہم کی، جس کے بعد ریحان اشرف دوسری گاڑی میں سوار ہو کر اس مقام کی طرف روانہ ہوئے جہاں ان کی گاڑی موجود ہونے کی اطلاع تھی۔
تاہم، ایف آئی آر کے مطابق اپنی گاڑی کا سراغ لگانے اور اسے واپس حاصل کرنے کی یہ کوشش ریحان اشرف کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی اور ویلے اٹیڈینٹ نے انہیں گولی مار دی جو ان کی گردن پر لگی اور وہ جان کی بازی ہار گئے۔ پولیس کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
ویلے اٹینڈنٹ کی بھرتی کے متعلق انہوں نے بتایا کہ ’باقاعدہ جانچ پڑتال کے بعد اٹینڈنٹ بھرتی کیے جاتے ہیں۔‘ (فوٹو: ونڈسر ویلے)
اردو نیوز نے ویلے پارکنگ سروسز کے کام، ویلے اٹینڈنٹ کی بھرتی کے معاملے کو سمجھنے کے لیے اسلام آباد اور راولپنڈی میں ویلے پارکنگ سروسز فراہم کرنے والی ایک نجی کمپنی کے مالک سے بات کی۔
انہوں نے بتایا کہ ’ویلے پارکنگ سروسز کسی بھی دوسرے بزنس کی طرح سروسز فراہم کرنے والا ایک کاروبار ہے۔ ہماری کمپنیز متعلقہ اداروں ایف بی آر اور ایس ای سی پی کے پاس رجسٹرڈ ہوتی ہیں، مختلف پرائیویٹ اور سرکاری کمپنیوں سے کنٹریکٹ ہوتے ہیں اور ہم ان کے عوض اپنی سروسز فراہم کرتے ہیں۔‘
ویلے اٹینڈنٹ کی بھرتی کے متعلق انہوں نے بتایا کہ ’باقاعدہ جانچ پڑتال کے بعد اٹینڈنٹ بھرتی کیے جاتے ہیں، بھرتی کے لیے اس کا ڈرائیونگ لائسنس اور پولیس کرکیٹر سرٹیفکیٹ لازمی شرائط میں شامل ہوتا ہے، اٹینڈنٹ کو حکومتی طے شدہ نرخوں کے برابر تنخواہ دی جاتی ہے اور اس کے علاوہ اسے صارفین ٹپ بھی دیتے ہیں۔‘
چھوٹی سطح پر ویلے پارکنگ سروسز کی کمپنی چلانے والے ایک مالک نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ہم مختلف پرائیوٹ ریسٹورینٹس، شادی ہالز، مارکیوں، ہوٹلز اور شاپنگ سینٹرز کو اپنی سروسز فراہم کرتے ہیں، اٹینڈنٹ کو 20 سے 25 ہزار کے درمیان تنخواہ دیتے ہیں اور باقی ان کی ٹپ بھی ہوتی ہے۔‘ بھرتی کے متعلق انہوں نے بھی وہی طریقہ کار دہرایا۔
حکام کے مطابق ’مدت ختم ہونے کے بعد رائج طریقہ کار کے تحت وینڈر کو ٹھیکہ دیا جاتا ہے۔‘ (فوٹو: پکسابے)
وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے حکام کے مطابق ’اسلام آباد بھر کے پبلک پارکنگ بوتھس کا ٹھیکہ ٹینڈرز کے ذریعے ایک پرائیویٹ کمپنی کو دیا گیا ہے، اس کی مدت ختم ہونے کے بعد رائج طریقہ کار کے تحت وینڈر کو ٹھیکہ دیا جاتا ہے۔‘
ریسٹورینٹس، ہوٹلز اور شاپنگ مالز کی ویلے پارکنگ سروسز کے متعلق حکام نے بتایا کہ ’پرائیویٹ ریسٹورینٹس، ہوٹلز اور شاپنگ مالز وغیرہ میں پرائیویٹ ویلے سروسز کمپنیاں یہ سروس فراہم کرتی ہیں، البتہ شہریوں کے تحفظ کے پیش نظر ان کمپنیوں کو لائسنس ضلعی انتظامیہ جاری کرتی ہے، کمپنیوں کے ملازمین کے کوائف بھی ضلعی انتظامیہ کے پاس جمع کروائے جاتے ہیں کوئی شخص ذاتی حیثیت میں یہ ویلے سروسز فراہم کرنے کا مجاز نہیں ہوتا۔ ذاتی حیثیت میں ایسا کرنا غیر قانونی ہے۔‘