قلات میں 10 بچوں کا باپ ٹیکسی ڈرائیور قتل، ’مریض کو ہسپتال پہنچانے کے بہانے لے جایا گیا‘
پیر 12 اکتوبر 2026 21:52
زین الدین احمد -اردو نیوز، کوئٹہ
’میرے بھائی کو ایک مریض کو کوئٹہ کے ایک ہسپتال لانے کے بہانے منگچر لے جایا گیا لیکن وہ واپس نہیں آئے۔ ان کی لاش ملی اور گاڑی غائب تھی۔‘
یہ الفافظ بلوچستان کے ضلع قلات میں قتل ہونے والے ٹیکسی ڈرائیور بخت محمد کے بھائی فیض محمد کے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے بھائی کو ظالموں نے گاڑی چھیننے کے لیے قتل کیا۔
کوئٹہ کے علاقے پشتون باغ کے رہائشی 35 برس کے بخت محمد 10 بچوں کے والد تھے اور ٹیکسی چلا کر اپنے خاندان کا گزر بسر کرتے تھے۔
بخت محمد کی نعش اتوار کو بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے خالق آباد منگچر میں کلی ملنگزئی روڈ سے ملی تھی۔ پولیس کے مطابق انہیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔
نعش کے ساتھ ملنے والے شناختی دستاویزات سے اُن کی شناخت ہوئی جبکہ ان کی جیب سے کوئٹہ کے قریب قائم لکپاس ٹول پلازہ کی ایک پرچی بھی ملی جس پر 10 اکتوبر کی تاریخ درج تھی۔
قلات اور اس سے متصل اضلاع میں نجی و سرکاری گاڑیوں، مال بردار ٹرکوں اور بسوں کے ڈرائیوروں اور عملے کے اغوا کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
بلوچستان بس ٹرانسپورٹ یونین اور بلوچستان گڈز اورنرز ایسوسی ایشن کے عہدے داروں کے مطابق صرف رواں سال گاڑیاں چھیننے اور ڈرائیوروں کے اغوا کے درجنوں واقعات ہو چکے ہیں جن میں کئی افراد کو قتل بھی کیا گیا ہے۔
فیض محمد نے بتایا کہ ان کے بھائی ٹیکسی چلا کر اپنے گھر والوں کی کفالت کرتے تھے۔ ان کے پاس 2006 ماڈل کی ٹویوٹا فیلڈر گاڑی تھی جسے وہ ٹیکسی کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ وہ کوئٹہ کے علاوہ چمن اور دوسرے شہروں میں بھی سواری لے کر جاتے تھے۔
ان کے مطابق واقعے سے ایک روز قبل ایک شخص بخت محمد کے پاس آیا اور بتایا کہ اس کے گھر کا ایک فرد بیمار ہے اور منگچر میں موجود ہے۔ یہ علاقہ کوئٹہ سے قریباً 100 کلومیٹر دُور ہے۔
فیض محمد کا کہنا تھا کہ منگچر اور وہاں جانے والے راستے میں امن و امان کی صورت حال خراب ہے، وہاں روز ڈرائیور اغوا اور قتل ہو رہے ہیں اس لیے ان کے بھائی پہلے اس شخص کے ساتھ جانے پر آمادہ نہیں تھے۔
تاہم بعد ازاں میرے بھائی نے اس شخص سے ضمانت طلب کی، اس کے شناختی کارڈ کی تصویر بنائی اور احتیاطاً اپنے ایک دوست کو بھیج دی۔
فیض محمد کے مطابق ان کے دوست نے شناختی کارڈ کی تصویر دیکھنے کے بعد بخت محمد کو خبردار کیا کہ یہ شخص مشکوک لگتا ہے اس لیے اسے راستے میں اُتار کر واپس آجائیں۔ تاہم اُن کے مطابق ’بخت محمد کسی وجہ سے ایسا نہیں کر سکے۔‘
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے بھائی کو منگچر لے جا کر قتل کیا گیا اور ملزمان ان کی گاڑی چھین کر فرار ہو گئے۔
فیض محمد نے بتایا کہ جب اہلِ خانہ بخت محمد کی نعش لینے منگچر پہنچے تو پولیس نے ابتدا میں کارروائی اور مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا۔
’اس کے بعد وہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب نعش کوئٹہ لے آئے اور پہلے خروٹ آباد پولیس تھانے کے باہر جبکہ بعد میں مغربی بائی پاس پر جبل نور کے قریب نعش رکھ کر احتجاج کیا۔‘
احتجاج کے باعث سڑک پر ٹریفک معطل ہو گئی اور گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔ لواحقین نے قتل میں ملوث افراد کی گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ فیض محمد کے مطابق احتجاج کے بعد قلات پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔
انہوں نے بتایا کہ اہلِ خانہ نے گاڑی لے جانے والے شخص کے شناختی کارڈ کا نمبر اور دیگر تفصیلات بھی پولیس کو فراہم کی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ شخص سمیت قتل میں ملوث دیگر افراد کو گرفتار کیا جائے اور انہیں انصاف دلایا جائے۔
منگچر پولیس تھانے کے ہیڈ محرر سعد اللہ نے بتایا کہ واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق مقدمے میں قتل اور ڈکیتی کی دفعات شامل کی گئی ہیں، تاہم کسی شخص کو نامزد نہیں کیا گیا۔قلات پولیس کا کہنا ہے کہ ’ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘