راولپنڈی: خالو کے ہاتھوں 15 سالہ میمونہ کا مبینہ قتل، ’بیٹی کے قاتل کو عبرتناک سزا دی جائے‘
جمعرات 8 اکتوبر 2026 13:09
احتشام یوسف۔ اسلام آباد
پاکستان کے شہر راولپنڈی کے علاقے ڈھوک نجو میں 15 سالہ میمونہ بی بی کو مبینہ طور پر سگے خالو کی جانب سے زیادتی کے بعد قتل کیے جانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔
مقتولہ کے والد محمد فیصل کی جانب سے پولیس کو فراہم کی گئی معلومات کے مطابق میمونہ بی بی 6 اکتوبر کی دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب مدرسے کے لیے گئی لیکن راستے سے لاپتہ ہو گئی۔
اردو نیوز کو موصول واقعے کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کے مطابق مقتولہ کے والد نے پولیس کو 7 اکتوبر کو بتایا کہ ان کی بیٹی ایک دن سے لاپتہ ہے اور پولیس اس کی بازیابی کے لیے کارروائی کرے۔
راولپنڈی پولیس کے مطابق فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کے بعد پولیس نے مقتولہ کی تلاش شروع کی تو سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے معلوم ہوا کہ بچی اپنے خالو کے ساتھ ہے۔
پولیس کے مطابق ’بچی کے خالو کے گھر پولیس کے چھاپے کے دوران بچی کی تشدد زدہ لاش چارپائی کے نیچے سے ملی جبکہ گھرکو تالا لگا تھا اور بچی کا خالو گھر سے غائب تھا۔‘
پولیس کے مطابق بچی کے جسم پر مزاحمت کے نشانات اور منہ میں کپڑا اور گلے میں دوپٹہ بندھا ہوا تھا۔
مقتولہ میمونہ بی بی کے والد اور مقدمے کے مدعی محمد فیصل نے اردو نیوز کو بتایا کہ انہوں نے اپنی مقتولہ بیٹی کی تدفین آبائی گاؤں ایبٹ آباد میں کر دی ہے۔
محمد فیصل کا کہنا تھا کہ ’میری بیٹی ملزم کے گھر کے سامنے پڑھنے جاتی تھی۔ اس نے اسے گھر کے اندر بلا کر تشدد کر کےمار دیا ہے۔‘
’پولیس ملزم کو ڈھونڈ کر نکالے اور جیسے اس نے میری بیٹی کو تکلیف دے کر مارا ہے اسے بھی عذاب دے کر مارا جائے۔‘
بچی کے قتل کی واقعے کے بعد ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں گلی میں مقتولہ اور ملزم کو دیکھا جا سکتا ہے۔
پولیس کی جانب سے تاحال ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے مزید درست تعین کے لیے لاش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے۔
پولیس نے مقدمے میں دفعہ 302 کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
