Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’السروات‘ اور ’طویق‘ سٹریٹیجک منصوبے جو سعودی رائل نیوی کو مضبوط بنا رہے ہیں

اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں کی تیاری شامل تھی۔( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزارتِ دفاع جدید جنگی نظام، ہائی آپریشنل کارکردگی اور کوالیفائیڈ قومی اہلکاروں سے لیس ماڈرن نیول فورس کی ڈیویلپمنٹ پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق اس پروگرام کا مقصد دفاعی اخراجات کو کارکردگی بہتر بنانے، ہتھیاروں کو جدید بنانے، دفاعی صنعتوں کو مقامی بنانے اور افواج کی آپریشنل صلاحیت اور تیاری میں اضافے کے لیے ایک جامع آپریٹنگ ماڈل، گورننس انفرا سٹرکچر اور آرگنائزیشنل فریم ورک تیار کرنا ہے۔
اس حکمت عملی کا مرکز رائل نیوی کو مملکت کے وسیع بحیرہ احمر اور خلیج عرب کے ساحلوں، اہم آبی گزر گاہوں، سٹریٹیجک اثاثوں کا تحفظ اور علاقائی و بین الاقوامی سمندری استحکام کی سپورٹ کے لیے با اختیار بنانا ہے۔
رائل سعودی نیوی تاریخی سٹریٹیجک پروگرام کے ذریعے جنگی تیاریوں، تیکنیکل سسٹم اور ہیومن کیپیٹل کو اپ گریڈ کر رہی ہے۔
اس پروگرام میں ’السروات‘اور ’طویق‘ منصوبے انتہائی اہم ہیں۔ دونوں منصوبوں کے ذریعے جدید جنگی نظام کی تنصیب، ٹیکنالوجی کی منتقلی، دفاعی صنعتوں کی مقامی سطح پر ترقی، سعودی ماہرین کی تربیت اور بحری تنصیبات پر کام کیا جا رہا ہے۔
السروات پروجیکٹ کے تحت ’کورویٹ ایوانٹی 2200 ‘ طرز کے 8 کثیر المقاصد جنگی بحری جہاز تیار کیے جا رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں پانچ جنگی جہاز’جلالہ الملک الجبیل، الدرعیہ، جلالہ الملک حائل، جلالہ الملک جازان اور جلالہ الملک عنیزہ‘ کی تیاری شامل تھی۔

جبکہ دوسرے مرحلے میں ’جلالہ الملک المدینہ، جلالہ الملک نیوم اور جلالہ الملک العلا‘ شامل ہیں۔ منصوبے میں جہازوں کے عملے کی تربیت، جامع لاجسٹک سپورٹ کے ساتھ سعودی انجینئرز کی تربیت کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔
منصوبے کی ایک اہم پیش رفت دسمبر 2023 میں جلالہ الملک جازان جہاز کی رونمائی تھی جو منصوبے کا پہلا ایسا جہاز ہے جس کے عملی تجربات سعودی عرب کے پانیوں میں کیے گئے۔ منصوبے کے تحت ’حزم‘ نامی بحری جنگی انتظامی نظام بھی تیار کیا گیا ہے جو سعودی عرب کا پہلا مقامی بحری جنگی نظام ہے۔
طویق منصوبے کے تحت ’ایم ایم ایس سی‘ کے طرز کے چار کثیر المقاصد جنگی جہاز تیار کیے جارہے ہیں جن کے نام ’جلالہ الملک سعود، جلالہ الملک فہد، جلالہ الملک عبداللہ اور جلالہ الملک سلمان‘ ہیں۔ منصوبے میں الجبیل اور کنگ عبدالعزیز نیول بیس کی ترقی، جدید تربیتی اور مرمتی مراکز کا قیام، لاجسٹک معاونت اور جہازوں کے عملے کی تربیت شامل ہے۔

دونوں منصوبوں میں دفاعی صنعتوں کی مقامی سطح پر ترقی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ’السروات‘ سعودی کمپنی ’ایس اے ایم آئی‘ اور سپین کی ’نافانتیا‘ کے اشتراک سے جبکہ ’طویق‘ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان دفاعی و تکنیکی تعاون کے تحت، لاک ہیڈ مارٹن اور فنکنٹیری‘ سمیت متعلقہ اداروں کے اشتراک سے آگے بڑھ رہا ہے۔
وزارت دفاع کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد جدید بحری جنگی صلاحیتوں کے حصول کے ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی مقامی مواد میں اضافہ، قومی ماہرین کی اعلی سطح پر تربیت و تیاری اور پائیدار دفاعی بحری صنعتی بنیاد قائم کرنا ہے جو سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔

 

 

شیئر: