لبنان میں 13 ڈالر کا چکن سینڈوچ طبقاتی تقسیم کی علامت کیسے بن گیا؟
لبنان میں 13 ڈالر کا چکن سینڈوچ طبقاتی تقسیم کی علامت کیسے بن گیا؟
اتوار 25 اکتوبر 2026 14:20
تنازع کے باوجود سینڈوچ کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا (فوٹو: روئٹرز)
لبنان میں ایک 13 ڈالر کے چکن سینڈوچ نے معاشی بحران اور بڑھتی ہوئی طبقاتی خلیج پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بیروت کے ایک ریستوران ’دی گلو پیراڈائز‘ نے مشہور شش طاووق سینڈوچ کا ایک نیا ورژن ’شیک طاووق‘ متعارف کرایا جس کی قیمت تقریباً 13 ڈالر رکھی گئی۔ یہ قیمت شہر میں فروخت ہونے والے عام چکن سینڈوچ کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔
اس مہنگے سینڈوچ نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل پیدا کیا۔ ناقدین نے ریستوران پر الزام لگایا کہ وہ ایک ایسے ملک میں غیرمعمولی قیمت وصول کر رہا ہے جہاں لاکھوں افراد بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
دوسری جانب بعض صارفین کا موقف تھا کہ ہر کاروبار کو اپنی مصنوعات کی قیمت مقرر کرنے کا حق حاصل ہے اور مہنگی اشیا خریدنے یا نہ خریدنے کا فیصلہ صارفین خود کرتے ہیں۔
تنازع کے باوجود سینڈوچ کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ریستوران کے مطابق صرف 11 دنوں میں 20 ہزار سے زیادہ ’شیک طاووق‘ فروخت ہوئے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث نے دراصل اس کی تشہیر میں مدد کی۔
یہ معاملہ لبنان کی تبدیل ہوتی سماجی حقیقت کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ ملک کئی برسوں سے مالی بحران، سیاسی بدانتظامی اور تنازعات کا سامنا کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں متوسط طبقہ شدید متاثر ہوا ہے۔ تاہم ایک محدود طبقہ اب بھی اعلیٰ طرزِ زندگی برقرار رکھنے کی استطاعت رکھتا ہے۔
اقتصادی ماہر سمی نادر کے مطابق بیروت کے مصروف ریستوران پورے معاشی منظرنامے کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ درجنوں ریستوران بند ہوئے جو کاروباری مشکلات اور کمزور معیشت کی واضح علامت ہے۔
2019 کے مالی بحران کے بعد لبنان کی معیشت تقریباً 40 فیصد سکڑ چکی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق مہنگائی اور بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں نے عوام کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ملک کے بیشتر گھرانے بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
معاشی بحران نے معاشرے کو دو مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا ہے (فوٹو: روئٹرز)
53 سالہ ریسٹورنٹ ملازم فواد فخرالدین کا کہنا ہے کہ روزمرہ زندگی مسلسل مشکل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق لوگوں کی آمدنی اخراجات کا ساتھ نہیں دے پا رہی اور بہت سے شہری تنخواہ ملنے کے فوراً بعد قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے اور لوگ اس رفتار کا ساتھ نہیں دے پا رہے۔‘
ایک مہنگے سینڈوچ پر ہونے والی بحث دراصل لبنان میں موجود اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ معاشی بحران نے معاشرے کو دو مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا ہے، ایک وہ جو اب بھی خرچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دوسرا وہ جو بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔