Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

روایتی دستکاری: قصیم میں کھجور کی گٹھلیاں ضائع ہونے کے بجائے تسبیح میں تبدیل

تسبیح بنانے کے عمل کا آغاز گٹھلی کے انتخاب سے ہوتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
قصیم ریجن میں دستکار کھجور کی گٹھلیوں کو خوبصورت تسبیح میں تبدیل کر رہے ہیں جو روایتی دستکاری اور جدید ڈیزائن کا ایسا امتراج ہے جس نے کھجور کی اہمیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی دستکار استعمال شدہ اشیا سے ایک قیمتی تجارتی پروڈکٹ تیار کر رہے ہیں۔
تسبیح کی تیاری کا عمل کئی مراحل میں مکمل ہوتا ہے۔ تسبیح بنانے کے عمل کا آغاز گٹھلی کے انتخاب سے ہوتا ہے جس کے بعد اسے صاف اور خشک کرنے کے مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ بعدازاں تراش خراش کے بعد انہیں مناسب ساخت دی جاتی ہے۔
کھجور کی گٹھلیوں کی تراش کا عمل مکمل ہونے کے بعد ان میں پلاسٹک کی ڈور پرونے کے لیے سوراخ کیے جاتے ہیں تاہم اس عمل سے قبل گٹھلیوں سے بنے ان دانوں کو پالش کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔
خیال رہے مملکت میں گزشتہ برسوں کے دوران کھجور کے شعبے میں صنعتی اور تبدیلی کے عمل سے متعلق سرگرمیوں میں وسعت دیکھنے میں آ رہی ہے جس سے کھجور اور کھجور کے درخت کے مختلف اجزا سے غیر روایتی مصنوعات تیار کرنے کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔

ماہر خاتون دستکار نورہ الحربی نے بتایا کہ تسبیح بنانے کے لیے گٹھلیوں کو یکساں سائز دیا جاتا ہے تاکہ تسبیح خوبصورت لگے۔
نورہ الحربی نے مزید بتایا کہ اس پورے عمل میں ہاتھ کی مہارت بنیادی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ کھجور کی گٹھلیوں میں قدرتی طور پر شکل، رنگ اور ساخت کا معمولی فرق ہوتا ہے جس کے باعث ہر دانہ اپنی منفرد خصوصیات رکھتا ہے اور تیار شدہ تشبیح کو ایک خاص انفرادیت حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کھجور کی گٹھلی سے بنی تسبیح کی مارکیٹ ویلیو اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ اس کا گہرا تعلق کھجور کے درخت سے ہے جو مملکت کی زرعی اور ثقافتی شناخت کا ایک اہم ستون ہے۔ یہ پہنچان ثقافتی سیاحت، کارپوریٹ تحائف اور یادگاری اشیا کے شعبے میں تجارت کے لیے نئے دروازے کھولتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے اگر گٹھلی سے تیار کی جانے والی تسبیح کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے تو پیداوار کے لیے بعض مراحل، مثلا گٹھلیوں کی تیاری، کٹائی، پالش اور سوراخ کرنے کے عمل کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا سکتی ہے۔

 

شیئر: