Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سینٹ کام کے سربراہ کا آبنائے ہرمز کا دورہ، ’ڈیڑھ ارب بیرل سے زائد تیل برآمد کرنے میں خلیجی ممالک کی مدد‘

سینٹ کام کے سربراہ بریڈ کوپرسی ایچ 47 چنوک ہیلی کاپٹر کے ذریعے آبنائے ہرمز پہنچے (فوٹو: سینٹ کام)
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ بریڈ کوپر نے آبنائے ہرمز کے دورے کے موقع پر کہا ہے کہ امریکی افواج نے موسمِ گرما سے اب تک خلیجی ممالک کو ڈیڑھ ارب بیرل سے زائد خام تیل برآمد کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق بریڈ کوپر اتوار کو سی ایچ 47 چنوک ہیلی کاپٹر میں وہاں پہنچے، انہوں نے بارودی سرنگیں ہٹانے کے مشن میں حصہ لینے والے امریکی فوجیوں سے ملاقات کی اور ان کی خدمات کو سراہا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ خلیجی شراکت داروں اور بحری جہاز رانی کی صنعت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز کے دورے سے مضبوط عزم ظاہر ہوتا ہے جو اس اہم گزرگاہ کے راستے جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت سے متعلق ہے۔
سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران اس سمندری راستے پر جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ امریکی سے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی صفائی ہے جو کہ امریکی فوج نے کی ہے۔
دورے کے دوران بریڈ کوپر نے بارودی سرنگیں ہٹانے کے مشن میں حصہ لینے والے امریکی فوجیوں سے ملاقات کی اور ان کی خدمات کو سراہا۔
بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکی اہلکاروں کی شاندار کوششوں کی بدولت آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے اہم راستے اب ایرانی سمندری بارودی سرنگوں سے پاک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی افواج تجارتی جہازوں کی آمدورفت جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے دیگر اداروں، خلیج تعاون کونسل اور بحری جہاز رانی کی صنعت کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔

بریڈ کوپر نے کہا کہ جہازوں کی آمدورفت کے اہم راستے اب ایرانی سمندری بارودی سرنگوں سے پاک ہیں (فوٹو: روئٹرز)

سینٹ کام کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ  حالیہ مہینوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 95 فیصد سے زیادہ جہاز بحفاظت گزرے تاہم اس دوران پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے کارروائیوں کا خطرہ بھی موجود رہا۔
امریکہ کے اس دعوے کے باوجود دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اس کی سات شرائط پوری کرنا ضروری ہے جن میں بحری ناکہ بندی ختم کرنا، ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی اور تمام محاذوں پر جنگی کارروائیاں روکنا شامل ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے پہلے واشنگٹن کو یہ شرائط پوری کرنا ہوں گی، ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ایران کے مطالبات کے باعث ہی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
امریکی سینٹ کام کے سربراہ کا آبنائے ہرمز کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایک روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف ایک اور محدود فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔
انہوں نے اس ممکنہ کارروائی کو ’ایپک فیوری‘ کا ایک اور مرحلہ قرار دیا جو کہ اسی فوجی مہم کا نام ہے جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف شروع کی تھی۔

ریڈ کوپر  کا کہنا تھا کہ امریکی افواج گزرگاہ میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع ہونے سے بھی ایران کا مؤقف تبدیل نہیں ہو گا۔
انہوں نے تہران میں ایک ٹی وی پروگرام کے دوران کہا کہ ’آج کل نئی جنگ کی باتیں ہو رہی ہیں اور میں جنگ کے بعد کے حالات کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ جنگ ہو یا نہ ہو، ہماری پالیسیاں وہی رہیں گی۔‘
ان کے مطابق ’وہ پہلے بھی دو بار ایسا کر چکے ہیں اور نتائج دیکھ چکے ہیں، اگر وہ دوبارہ کوشش کرنا چاہتے ہیں تو انہیں معلوم ہے کہ اس بار بھی نتیجہ پہلے سے مختلف نہیں ہو گا۔‘
خیال رہے ایران اور امریکہ کے درمیان آٹھ اپریل کو ہونے والی جنگ بندی سے شدید لڑائی رک گئی تھی تاہم آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف وقفے وقفے سے فائرنگ اور جھڑپیں جاری رہیں اور گزشتہ چند ہفتوں میں ان واقعات میں کمی آئی ہے۔
ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس آبی گزرگاہ پر کنٹرول کا دعویٰ کرتا رہا ہے اور اس کی اجازت کے بغیر گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو باقاعدگی سے نشانہ بناتا رہا ہے جس کی امریکہ اور خطے کے دوسرے ممالک مخالفت کرتے رہے ہیں۔

شیئر: