Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کاکڑ فارمولہ کیا تھا جس کے نتیجے میں نواز شریف اور غلام اسحاق خان کو مستعفی ہونا پڑا؟

سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ عبدالوحید کاکڑ پیر کو راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔ انہیں براہ راست اقتدار میں آنے کے بجائے آئینی بحران کو دو طاقتور شخصیات کے استعفے کے ذریعے حل کرانے کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔
سنہ 1993 میں ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس میں بڑھتی کشیدگی کے بعد اس وقت کے آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ کو مداخلت کرنا پڑی اور اس کے نتیجے میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف  اور صدر غلام اسحاق خان کو مستعفی ہونا پڑا اور اس پیش رفت کو پاکستان میں آج بھی ’کاکڑ فارمولے‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
کاکڑ فارمولہ کیا تھا؟
ڈاکٹر حسن عسکری رضوی اپنی کتاب ’ملٹری، سٹیٹ اینڈ سوسائٹی ان پاکستان‘ میں لکھتے ہیں کہ ’جب صدر اور وزیراعظم کے درمیان تناؤ حد سے بڑھا تو فوج نے دونوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا۔ نواز شریف نے مذاکرات میں سخت مؤقف اپنایا اور غلام اسحاق خان کو صورت حال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
جُوں جُوں مذاکرات آگے بڑھے تو نواز شریف نے مستعفیٰ ہونے پر رضامندی ظاہر کر دی، لیکن اس کے لیے بھی انھوں نے صدر کے استعفے اور خود کو بطور نگراں وزیراعظم رہنے کا مطالبہ کیا۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’صدر نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ وہ نواز شریف کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس پر دستخط کرنے اور اپوزیشن کے غیرجانبدار نگراں وزیراعظم کے مطالبے کو مانتے ہوئے نئے وزیراعطم سے حلف لینے کے بعد مستعفی ہو جائیں گے۔ فوجی قیادت نے ان کی تجویز کو مناسب جانا اور نواز شریف کو اس پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی۔‘
یوں 18 جولائی 1993 کو نواز شریف نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کی ایڈوائس بھجوائی اور بعد ازاں غلام اسحاق خان مستعفی ہو گئے۔
آرمی چیف عبدالوحید کاکڑ نے اس وقت کے نوآموز وزیراعظم نواز شریف اور تجربہ کار صدر غلام اسحاق خان کے درمیان بحران کا سادہ اور موثر حل تجویز کیا۔ اگرچہ نواز شریف ’ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘ کی تقریر کے بعد ڈسمس ہوئے اور پھر تاریخ میں پہلی دفعہ بحال ہو کر واپس بھی آئے، مگر بحران جوں کا توں تھا۔ اس کشمکش کا سادہ حل یہی نکلا کہ دونوں صاحبان کی چھٹی ہوئی اور اسمبلیاں بھی تحلیل کر دی گئیں۔
وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر میں ٹکراؤ اور کشیدگی
وزیراعظم نواز شریف کی معاشی پالیسیوں کا محور ڈی نیشنلائزیشن، سرمائے کی آزادانہ نقل و حمل اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے موافق ماحول کی فراہمی تھا۔ وہ اپنی افتاد طبع کے باعث نظم و ضبط کی ادارہ جاتی باریکیوں اور مالیاتی امور کی جکڑ بندیوں کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔
دوسری طرف قانونی موشگافیوں میں مشاق غلام اسحاق خان نے اس روش کو مالیاتی نظم و ضبط کی خلاف ورزی قرار دے کر روک ٹوک شروع کر دی۔ جس سے طاقت کے دونوں مراکز میں بداعتمادی اور بد دلی جنم لینے لگی۔ اسی دوران 1992 کے اوآخر میں وزیراعظم نے کابینہ کے ممبران کو آئندہ صدارتی امیدوار کے بارے میں بحث اور بیانات سے گریز کرنے کی تلقین کی۔
دوسری بار صدارت کے متمنی غلام اسحاق خان کو اس احتیاط اور احتراز میں سازش کی بو آنے لگی۔
نواز شریف کی کابینہ کے ممبر سرتاج عزیز اپنی کتاب ’ ‘Between Dreams and Realitiesمیں لکھتے ہیں کہ صدر مملکت نے ان سے ملاقات میں تلخ لہجے میں نواز شریف کے طرز عمل پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا اور برملا کہا کہ الہی بخش سومرو اور اعجاز الحق کے علاوہ کوئی بھی ان کے صدارتی امیدوار بننے کے بارے میں بات نہیں کرتا۔
سیاسی تناؤ اور کشیدگی کے ماحول میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نواز کی اچانک  رحلت نے بھی دونوں بڑوں کے درمیان اختیارات کی کھینچا تانی کو جنم دیا۔ غلام اسحاق خان کے ذاتی دوست اور سینیئر بیوروکریٹ روئیداد خان اپنی کتاب ’پاکستان انقلاب کے دہانے پر‘ میں لکھتے ہیں کہ آرمی چیف کے جانشین کے لیے غلام اسحاق خان کا انتخاب جنرل فرخ تھے۔ بوجہ نواز شریف کو اس پر اعتراض تھا۔ بالآخر درمیانہ راستہ نکالا گیا اور جنرل عبدالوحید کاکڑ کو یہ منصب سونپا گیا۔ اس اہم تقرری کا اختیار صدر کو آٹھویں ترمیم کے تحت حاصل تھا۔
وزیراعظم نواز شریف اس اختیار کو منتخب عوامی نمائندوں کے ہاتھ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے صدر کو کلی اختیار دینے والی آئینی شقوں میں تبدیلی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔
سنہ 28 فروری 1993 کو سینیٹ میں ان کی تقریر میں اس بات کی خواہش اور اشارہ موجود تھا۔ پیپلز پارٹی سے مفاہمت اور مدد کے لیے انھوں نے بینظیر بھٹو کو امور خارجہ کی کمیٹی کا چیئرپرسن بنا کر اپنا ما فی الضمیر واضح کر دیا تھا۔ آئینی ترمیم کا اشارہ کر کے گویا صدر کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔
سنہ 18 مارچ 1993 کو سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ کے صدر محمد خان جونیجو کی موت نے ایوان صدر کو نواز شریف کے حریفانہ اقدامات کا جواب دینے کا موقع مہیا کر دیا۔
مسلم لیگ میں نواز شریف کے مخالف دھڑے میں حامد ناصر چٹھہ سب سے نمایاں تھے۔ محمد خان جونیجو کے انتقال کے بعد انہوں نے کھل کر سامنے آنے کا فیصلہ کر لیا۔ ان سمیت تین وزراء نے کابینہ سے استعفی دے دیا۔ ان کے بارے میں تاثر تھا کہ یہ قدم ایوان صدر کی منشا سے اٹھایا گیا تھا، کیوںکہ ان میں غلام اسحاق خان کے داماد انور سیف اللہ بھی شامل تھے۔
نواز شریف نے افتخار گیلانی اور محمود خان اچکزئی کے ذریعے لندن میں مقیم بے نظیر بھٹو سے رابطہ کیا۔ مگر فاروق لغاری اور آفتاب شیر پاؤ، روئیداد خان کے ذریعے غلام اسحاق خان سے رابطہ کیے ہوئے تھے۔
روئیداد خان کے بقول صدر نے انہیں اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لانے کی تاکید کی۔ مگر ان دونوں رہنماؤں کا اصرار 58 ٹو بی کے ذریعے نواز شریف حکومت کا خاتمہ تھا۔
وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر میں ٹکراؤ اور کشیدگی کے ماحول میں کچھ رہنماؤں کی کوششوں سے 14 اپریل کو دونوں حکومتی شخصیات کے درمیان ملاقات ہوئی۔ بجائے صورتحال سنبھلنے کے، اس ملاقات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔
وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے مشترکہ اخباری بیان کا مسودہ ایوان صدر بھیجا گیا۔ جس کے جواب میں صدر کی طرف سے آٹھ سطری پریس ریلیز جاری کی گئی۔ جس کی زبان اور اعلان نے مزاحمت پر آمادہ نوازشریف کو انتہائی قدم اٹھانے کی طرف دھکیل دیا۔
یہ تھے وہ واقعات اور عوامل جنہوں نے نواز شریف کو 17 اپریل کی تاریخی تقریر کا سامان مہیا کیا۔
عام طور پر وزرائے اعظم کی تقاریر اسلام آباد میں ریکارڈ ہوتی تھیں۔ مگر یہ تقریر انتہائی رازداری سے لاہور میں ریکارڈ کروائی گئی۔ اس روز ٹیلی ویژن کی سکرین پر مفاہمت کے برعکس مزاحمت کا پیغام دینے والے نواز شریف کا چہرہ نظر آیا۔
سنہ 18 اپریل 1993 کے صدارتی حکم نامے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ 28 جون کو سپریم کورٹ نے حکومت بحال کر دی۔ لیکن گھاگ غلام اسحاق خان کے ترکش میں وزیراعظم کو گھائل کرنے کے تیر اب بھی موجود تھے۔ پنجاب اور سرحد کی صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل اور پنجاب میں وفاق اور صوبے کے درمیان قانونی چپقلش اور ٹکراؤ نے ملکی سیاست اور نظام حکومت کو بند گلی میں دھکیل دیا۔
جس سے نکلنے کے لیے صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات میں نواز شریف اور غلام اسحاق خان کے استعفے پر اتفاق نے ممکنہ تصادم کا راستہ روک دیا۔

شیئر: