Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’اعتماد بحال کرنے کی درخواست‘، صائم ایوب ٹرائی سیریز سکواڈ سے ریلیز

پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی نے صائم ایوب کی جگہ صاحبزادہ فرحان کو اسکواڈ میں شامل کر لیا ہے۔(فوٹو:گیٹی امیجز)
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے صائم ایوب کو سہ فریقی ون ڈے سیریز کے بقیہ میچز کے لیے قومی سکواڈ سے ریلیز کر دیا ہے۔ 
پی سی بی کے مطابق صائم ایوب نے ہیڈ کوچ سے گفتگو کے بعد اپنی بیٹنگ فارم بہتر بنانے اور اعتماد بحال کرنے کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی کی درخواست کی تھی، جسے ٹیم مینجمنٹ اور قومی سلیکشن کمیٹی نے قبول کر لیا۔
پی سی بی کی جانب سے 26 اکتوبر کو جاری بیان کے مطابق سلیکشن کمیٹی نے صائم ایوب کی جگہ صاحبزادہ فرحان کو سکواڈ میں شامل کیا ہے۔
پاکستان مسلسل تین فتوحات کے بعد ٹرائی سیریز کے فائنل میں جگہ بنا چکا ہے جبکہ منگل، 27 اکتوبر کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں سری لنکا کے خلاف سیریز کا پانچواں میچ کھیلے گا۔
صائم ایوب کی سکواڈ سے علیحدگی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وہ ٹرائی سیریز کے ابتدائی تین میچز میں بیٹنگ کے دوران نمایاں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔
پی سی بی نے اپنے بیان میں ان کی موجودہ فارم کے بارے میں خود جائزہ لینے اور ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی کی درخواست کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی نے ان کے فیصلے کا احترام کیا ہے۔
صائم ایوب کی حالیہ کارکردگی اور سکواڈ سے علیحدگی پر سوشل میڈیا صارفین نے مختلف آرا کا اظہار کیا ہے۔ 
سپورٹس صحافی ساجد صادق نے بھی پی سی بی کے اعلان کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صائم ایوب نے ہیڈ کوچ سے گفتگو کے بعد ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی کی درخواست کی تھی اور صاحبزادہ فرحان کو ان کا متبادل نامزد کیا گیا ہے۔
بعض شائقین نے ان کی انجری کے بعد فارم میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی کو اعتماد بحال کرنے کا موقع قرار دیا، جبکہ دیگر نے ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مسلسل مواقع دینے کی حمایت کی۔
ایکس صارف لیلہ خان نے صائم ایوب کی صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ انجری کے بعد وہ پہلے جیسے کھلاڑی دکھائی نہیں دیے اور انہیں مسلسل ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 
تاہم، انہوں نے صائم کو ڈومیسٹک کرکٹ میں کھیل کر زیادہ مضبوط واپسی کرنے، امید برقرار رکھنے اور ہمت نہ ہارنے کا مشورہ دیا۔
دوسری جانب حسن نے صائم ایوب اور فخر زمان کو پاکستان کے بہترین اوپنرز میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں، خصوصاً جنوبی افریقہ جیسے حالات میں، مسلسل مواقع ملنے چاہییں تاکہ وہ ورلڈ کپ سے پہلے اپنی فارم بحال کر سکیں۔ 
انہوں نے صاحبزادہ فرحان کو بھی ایک اچھا کھلاڑی قرار دیا، تاہم پی سی بی کے فیصلوں پر تنقید کی۔
ایکس پر ایک اور صارف نے صائم ایوب کی تینوں فارمیٹس میں کارکردگی دکھانے کی صلاحیت پر اعتماد ظاہر کیا۔
ان کے مطابق صائم نے انجری سے پہلے مختلف فارمیٹس میں اپنی صلاحیتوں کی جھلک دکھائی تھی، لیکن انجری کے بعد مشکلات اور بیٹنگ آرڈر میں بار بار تبدیلیوں سے ان کا اعتماد متاثر ہوا۔ 
صارف نے امید ظاہر کی کہ صائم اپنی صلاحیتوں کے مطابق دوبارہ کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔
پاکستان ٹرائی سیریز کے فائنل میں جگہ بنا چکا ہے، اس لیے سری لنکا کے خلاف آئندہ میچ میں ٹیم کو اپنے دوسرے کھلاڑیوں کو آزمانے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔ تاہم، پی سی بی کے بیان میں صائم ایوب کی ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی کی مدت یا قومی ٹیم میں دوبارہ شمولیت کے حوالے سے کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

شیئر: