Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایپل کے فولڈ ایبل آئی فون کی سکرین ٹوٹنے لگی، ’ہنج گیٹ‘ کیا ہے؟

ایپل کے پہلے فولڈ ایبل ’آئی فون ڈیو‘ کی سکرین خریداری کے چند گھنٹوں بعد ہی ٹوٹنے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ ابتدائی معائنے میں فون کے قبضے (ہنج) کے ایک پرزے کو سکرین ٹوٹنے کی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا ہے۔
ان واقعات کے بعد فون کے ڈیزائن اور پائیداری پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا پر صارفین اس مسئلے کو ’ہنج گیٹ‘ کا نام دے رہے ہیں، تاہم ایپل نے ابھی تک سکرین ٹوٹنے کی وجہ پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’میک رومرز‘ کے مطابق، بعض صارفین نے آئی فون ڈیو کی اندرونی سکرین پر ہنج کے قریب دراڑیں پڑنے کی شکایات کی ہیں۔
ہنج وہ میکانزم ہے جس کی مدد سے فولڈ ایبل فون کھلتا اور بند ہوتا ہے۔ اس حصے میں خرابی کی صورت میں سکرین متاثر ہوسکتی ہے، تاہم ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ مسئلے کی وجہ ہنج کے ڈیزائن میں خامی ہے یا کسی مخصوص پرزے کا ٹوٹنا۔

سکرین ٹوٹنے کی ممکنہ وجہ کیا ہے؟

ایپل کی مصنوعات سے متعلق خبریں شائع کرنے والی ویب سائٹ ’ایپل انسائیڈر‘ کے مطابق، یوٹیوبر ’کیوریئس ہیگی‘ نے آئی فون ڈیو کو مختلف آزمائشوں سے گزارنے کے بعد کھول کر اس کے اندرونی حصوں کا معائنہ کیا۔ اس آزمائش کے دوران فون کو گردوغبار کے سامنے رکھا گیا اور ہنج پر مخالف سمت میں دباؤ بھی ڈالا گیا۔
معائنے کے دوران فون کو دوبارہ بند کرنے میں دشواری پیش آئی۔ اسے کھولنے کی کوشش کرتے وقت چٹخنے کی آواز آئی اور اندرونی سکرین پر دراڑ پڑ گئی۔
فون کھولنے پر ہنج کے اندر ایک ٹوٹا ہوا پرزہ ملا، جو اوپری حصے سے منسلک تھا۔ یہ پرزہ ہنج کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں نسبتاً پتلا دکھائی دیا۔ اس کے قریب موجود حصوں اور اندرونی سکرین پر بھی ایسے نشانات تھے جو دباؤ یا کسی پرزے کے ٹکرانے سے پڑ سکتے ہیں۔
اس معائنے کی بنیاد پر امکان ظاہر کیا گیا کہ ’ہنج کا ایک پرزہ ٹوٹ کر سکرین سے ٹکرایا، جس سے دراڑ پڑ گئی۔‘ تاہم، یہ آزمائش غیر معمولی دباؤ کے تحت کی گئی تھی، اس لیے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عام استعمال کے دوران ٹوٹنے والی تمام سکرینوں کی وجہ بھی یہی ہے۔

آسٹریلیا میں ایک صارف نے دعویٰ کیا کہ اس کے آئی فون ڈیو کی سکرین خریداری کے تقریباً چھ گھنٹے بعد ٹوٹ گئی۔(فوٹو:ریڈٹ)

ریڈٹ پر صارفین نے کیا دعوے کیے؟

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈٹ پر آئی فون ڈیو کے ایک صارف نے ہنج کی دستیاب تصاویر کا موازنہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’اس کا ایک مخصوص پرزہ اندرونی سکرین پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔‘
صارف کے مطابق، اس پرزے کی جگہ سکرین پر خراب ہونے والے پکسلز کے مقام سے مطابقت رکھتی ہے۔ پکسلز سکرین کے وہ چھوٹے اجزا ہیں جن سے تصویر بنتی ہے۔ ان میں خرابی پیدا ہونے پر سفید یا رنگین لکیریں دکھائی دے سکتی ہیں۔
صارفین نے ہنج کے ڈیزائن میں ممکنہ خامی، تیاری کے دوران پیدا ہونے والے نقص اور گردوغبار کے باعث ہنج کی حرکت متاثر ہونے کے امکانات پر بھی بحث کی ہے۔ تاہم، ان میں سے کسی وجہ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ فونز کی تیاری کی تاریخوں میں فرق اور بعد میں ڈیزائن تبدیل کیے جانے کے دعوے بھی غیر مصدقہ ہیں۔

خریداری کے چند گھنٹوں بعد سکرین ٹوٹنے کا دعویٰ

آسٹریلیا میں ایک صارف نے دعویٰ کیا کہ اس کے آئی فون ڈیو کی سکرین خریداری کے تقریباً چھ گھنٹے بعد ٹوٹ گئی، حالانکہ اس دوران اس نے فون کو 20 مرتبہ سے بھی کم کھولا اور بند کیا تھا۔
صارف کے مطابق، وہ فون اپنے دوست کو دکھانے کے لیے کھول رہا تھا کہ اسے ہنج کے قریب سکرین کے نیچے کسی چیز کی رکاوٹ محسوس ہوئی۔ فون مزید کھولنے پر چٹخنے کی آواز آئی اور سکرین ہنج کی درمیانی لکیر کے ساتھ ٹوٹ گئی۔
اس کا کہنا تھا کہ فون کے بیرونی حصے یا سکرین پر کوئی ایسا نشان نہیں تھا جس سے معلوم ہو کہ اسے ضرب لگی تھی یا کوئی چیز اندر پھنس گئی تھی۔ صارف کے مطابق، وہ ایپل سٹور پہنچا تو کمپنی نے اس کا خراب فون تبدیل کردیا۔
چین میں ایپل سٹورز پر موجود بعض ڈیمو فونز کی ٹوٹی ہوئی سکرینوں کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم، ان فونز کو پہنچنے والے نقصان کی وجوہات معلوم نہیں، اس لیے یہ کہنا ممکن نہیں کہ ان کی سکرینیں بھی اسی خرابی کے باعث ٹوٹی تھیں۔
دوسری جانب، بعض افراد نے فون کو بار بار کھولنے اور بند کرنے کے تجربات کیے، لیکن ان کے زیرِ استعمال فونز میں سکرین ٹوٹنے کی شکایت سامنے نہیں آئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دستیاب تجربات میں تمام فونز کا نتیجہ یکساں نہیں رہا، تاہم محدود آزمائشوں سے پورے ماڈل کی پائیداری کا حتمی فیصلہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔

کتنے فونز میں سکرین ٹوٹنے کی شکایات سامنے آئیں؟

ایپل انسائیڈر نے 24 اکتوبر کو ایپل کے سات سٹورز، جن میں چار بڑے فلیگ شپ سٹورز بھی شامل تھے، سے معلومات حاصل کیں۔
رپورٹ کے مطابق، ابتدائی طور پر کسی بھی سٹور نے ٹوٹی ہوئی سکرین والے آئی فون ڈیو کی مرمت یا واپسی کا کیس رپورٹ نہیں کیا تھا۔ تاہم، اتوار کو دوبارہ معلومات حاصل کرنے پر ان ساتوں سٹورز میں مجموعی طور پر ایک کیس سامنے آیا۔

کچھ صارفین کے مطابق، فون کی ابتدائی سیٹنگ مکمل ہونے سے پہلے ہی سکرین ٹوٹ گئی۔(فوٹو:ایپل انسائیڈر)

دوسری جانب، 25 اکتوبر کو ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’نائن ٹو فائیو میک‘ نے سکرین ٹوٹنے کے تقریباً 10 الگ الگ واقعات کی نشاندہی کی۔ ان میں سکرین کے ہنج کے ساتھ ٹوٹنے اور ڈسپلے پر سفید لکیر نمودار ہونے کی شکایات شامل تھیں۔
کچھ صارفین کے مطابق، فون کی ابتدائی سیٹنگ مکمل ہونے سے پہلے ہی سکرین ٹوٹ گئی۔
بیشتر صارفین کو ایپل سٹور سے متبادل فون مل گیا، لیکن موبائل نیٹ ورک کمپنیوں سے فون خریدنے والے بعض افراد کو فون تبدیل کرانے میں مشکلات پیش آئیں۔
ایک صارف نے دعویٰ کیا کہ ’اسے بتایا گیا کہ فون گرنے سے ٹوٹا ہوگا اور مرمت کے اخراجات اسے خود برداشت کرنا ہوں گے۔‘
یہ اعدادوشمار مختلف ذرائع سے جمع کی گئی ابتدائی شکایات پر مبنی ہیں۔ فروخت ہونے والے فونز کی مجموعی تعداد اور خرابی کی شرح کے بارے میں مصدقہ معلومات دستیاب نہیں، اس لیے یہ معلوم نہیں کہ مسئلہ کتنے بڑے پیمانے پر موجود ہے۔

کیا گردوغبار سے بھی فون خراب ہوسکتا ہے؟

فولڈ ایبل فونز میں ہنج ایک اہم متحرک حصہ ہوتا ہے، جو بار بار کھلنے اور بند ہونے کے دوران حرکت کرتا ہے۔ اگر گردوغبار اس کے اندرونی حصوں تک پہنچ جائے تو بعض حالات میں اس کی حرکت متاثر ہوسکتی ہے۔ تاہم، یہ ثابت نہیں ہوا کہ آئی فون ڈیو کی سکرین ٹوٹنے کی شکایات میں گردوغبار بنیادی وجہ ہے۔
فون کی پائیداری سے متعلق ایک دوسری آزمائش میں یوٹیوبر ’جیری رگ ایوریتھنگ‘ نے آئی فون ڈیو کو مختلف حالات میں آزمایا۔
آزمائش کے دوران بیرونی سکرین خراشوں کے خلاف نسبتاً بہتر ثابت ہوئی، جبکہ اندرونی لچک دار سکرین پر کم سختی والی چیز سے بھی گہری خراشیں پڑ سکتی تھیں۔ فولڈ ایبل فونز کی اندرونی سکرینیں عموماً روایتی شیشے کی سکرینوں کے مقابلے میں زیادہ حساس ہوتی ہیں۔

سکرین ٹوٹنے کی صورت میں مرمت کا خرچ بھی صارفین کے لیے اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔(فوٹو:ایپل انسائیڈر)

اس آزمائش میں گردوغبار کے سامنے رکھنے اور بار بار تہہ کرنے کے بعد ہنج کی حرکت متاثر ہوئی اور فون مکمل طور پر بند نہیں ہوسکا۔ بعد میں اسے غیر معمولی مخالف سمت میں موڑنے سے سکرین کو نقصان پہنچا۔
ماہرین کی ایک علیحدہ جانچ میں فلوروسینٹ پاؤڈر کے ذریعے دیکھا گیا کہ گردوغبار فون کے اندر کہاں تک پہنچ سکتا ہے۔ کچھ ذرات ہنج کے متحرک حصوں تک پہنچے اور اسے حرکت دینے پر کی آواز آنے لگی۔
تاہم، ان آزمائشوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عام استعمال کے دوران گردوغبار لازماً سکرین توڑ دے گا یا متاثرہ فونز میں اس نے کوئی کردار ادا کیا تھا۔ آزمائشی حالات اور روزمرہ استعمال کے حالات میں فرق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

سکرین کی مرمت کتنی مہنگی پڑسکتی ہے؟

سکرین ٹوٹنے کی صورت میں مرمت کا خرچ بھی صارفین کے لیے اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔ آئی فون مرمت کرنے والے ادارے ’آئی فکس اِٹ‘ کے مطابق، آئی فون ڈیو کی اندرونی سکرین کی وارنٹی سے باہر مرمت کا تخمینہ 999 ڈالر ہے۔
ادارے نے فون کھول کر اس کے اندرونی حصوں کا معائنہ کیا اور اسے فولڈ ایبل فونز میں نسبتاً زیادہ قابلِ مرمت قرار دیا۔
آئی فکس اِٹ کے مطابق، بیٹری نکالنا اور بیرونی سکرین الگ کرنا نسبتاً آسان ہے، لیکن اندرونی سکرین اور ہنج تک پہنچنے کے لیے متعدد مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ مرمت کے دوران چپکنے والے مواد کو بھی درست طریقے سے دوبارہ لگانا ضروری ہوتا ہے۔

آئی فون ڈیو کی سکرین ٹوٹنے کی شکایات نے اس کے ہنج کے ڈیزائن اور پائیداری پر سوالات اٹھائے ہیں۔(فوٹو:میک رومرز)

آئی فکس اِٹ نے فون کی مرمت کو ابتدائی طور پر 10 میں سے 5 نمبر دیے۔ اس کا مطلب ہے کہ بعض حصوں کی مرمت ممکن ہونے کے باوجود اندرونی سکرین کی تبدیلی آسان کام نہیں۔ مرمت کی اصل لاگت ملک، سروس فراہم کرنے والے ادارے اور متعلقہ شرائط کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے۔
میک رومرز کے مطابق، معمول کے استعمال کے دوران ہنج کی خرابی کی صورت میں فون ایک سالہ وارنٹی کے تحت مرمت یا تبدیلی کا اہل ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے وقت فون واپس کرنے کی مدت دو ہفتے بتائی گئی تھی، تاہم وارنٹی یا واپسی کا اطلاق متعلقہ شرائط کے مطابق ہوگا۔
آئی فون ڈیو کی سکرین ٹوٹنے کی شکایات نے اس کے ہنج کے ڈیزائن اور پائیداری پر سوالات اٹھائے ہیں، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ مسئلہ کتنے فونز میں موجود ہے اور اس کی اصل وجہ کیا ہے۔ ایپل کی باضابطہ وضاحت اور متاثرہ فونز کے مزید معائنے کے بعد ہی اس معاملے کی مکمل تصویر سامنے آسکے گی۔

شیئر: