Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی وزیر دفاع وفد کی قیادت میں مکہ معاہدے کے رکن ممالک اور ایران کے درمیان مذاکرات

مذاکرات ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری جنرل محسن رضائی کے ساتھ ہوں گے (فوٹو: اے ایف پی)
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے نمائندوں اور ایرانی حکام کے درمیان پیر کو تہران میں مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب کے نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری کے مطابق سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان علاقائی کشیدگی میں کمی لانے کے لیے ان مذاکرات میں شرکت کی غرض سے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے تہران پہنچے۔
ڈاکٹر رائد قرملی نے اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری جنرل محسن رضائی کے ساتھ ہو رہے ہیں۔
قرملی نے کہا کہ یہ دورہ مکہ معاہدے میں شامل ممالک کی جانب سے موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنے اور مکالمے و سفارتی حل کی حوصلہ افزائی کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ قطر اور پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کی بھی حمایت کرتا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع کا تہران کا دورہ ’مکالمے اور سفارتی حل کی حوصلہ افزائی‘ کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مملکت اس بات کی اہمیت پر زور دیتی ہے کہ ’مذاکرات کے ذرائع کھلے رکھے جائیں تاکہ خطے میں دوبارہ فوجی کشیدگی کو روکا جا سکے۔‘
بیان کے مطابق ’مملکت خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے اور خطے اور دنیا میں امن کے فروغ کے لیے تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے میں مکہ معاہدے کے رکن ممالک کے کلیدی کردار کی توثیق کرتی ہے۔‘

 

شیئر: