لبنانی سکیورٹی حکام کے مطابق، حزب اللہ نے ایران سے خطیر رقم ملنے کے بعد اسرائیل کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع ہونے کے ممکنہ خدشے کے پیشِ نظر گزشتہ تین ماہ کے دوران اپنی تیاریاں جاری رکھی ہیں۔ اِن حکام کو حزب اللہ کی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے سال 1982 میں قائم کی گئی حزب اللہ کو سال 2024 سے اسرائیل کے ساتھ ہونے والی دو جنگوں میں شدید نقصانات اُٹھانا پڑے ہیں۔ اس کے ہزاروں جنگجو اور متعدد رہنما مارے جا چکے ہیں، جبکہ اِس کے اسلحے کا بڑا ذخیرہ بھی تباہ ہو چکا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج کے حملہ آور دستے اب جنوبی لبنان کے اُن دیہات پر قابض ہیں جو حزب اللہ کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں، جبکہ لبنان پر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے سیاسی دباؤ بھی بڑھ گیا ہے۔
مزید پڑھیں
اس کے باوجود حزب اللہ اسرائیل کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔ حزب اللہ کے بارے میں معلومات رکھنے والے دو لبنانی سکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’تنظیم نے جون سے جاری لڑائی میں وقفے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دوبارہ اسلحہ جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کی توجہ دھماکا خیز مواد حاصل کرنے اور ایسے ڈرونز تیار کرنے پر ہے جنہیں اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔‘
حزب اللہ کے قریب سمجھے جانے والے ایک اور ذریعے نے بتایا کہ تنظیم کو اپنی عسکری صلاحیتیں بڑھانے کے لیے ایران سے کروڑوں ڈالر موصول ہوئے ہیں۔
یہ رقم تقریباً اُن 20 کروڑ ڈالر کے علاوہ ہے جو حزب اللہ کو ایران سے اپنے شیعہ اکثریتی علاقوں میں بے گھر ہونے والے خاندانوں کی مدد کے لیے ملے تھے۔ روئٹرز نے رواں ماہ کے اوائل میں اِس امداد کی اطلاع دی تھی۔
حزب اللہ کی کارروائیوں سے واقف مذکورہ سکیورٹی ذریعے اور تین دیگر سکیورٹی حکام کے مطابق، تنظیم کمانڈ اور کنٹرول کے اُن ڈھانچوں کو بھی بحال کر رہی ہے جو اہم لڑائیوں کے دوران درہم برہم ہو گئے تھے۔
روئٹرز کے سوالات کے جواب میں حزب اللہ کے شعبۂ ابلاغ نے کہا کہ لبنانی سرزمین پر اسرائیل کا قبضہ اُس کے خلاف مزاحمت کو حزب اللہ کا جائز حق بناتا ہے۔

تنظیم نے اِس تجویز کو مسترد کر دیا کہ اُس کا کمانڈ اور کنٹرول کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ اسرائیلی فوج نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ جنیوا میں اقوام متحدہ کے لیے ایران کے مستقل مشن نے روئٹرز کے سوالات کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ امریکہ پابندیوں اور دیگر اقدامات کے ذریعے حزب اللہ کے مالی وسائل محدود کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ امریکی محکمۂ خزانہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ایران کے پاس رقم اور اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے ذرائع، دونوں کم ہوتے جا رہے ہیں۔
حزب اللہ ہائی الرٹ پر
حزب اللہ کی یہ تیاریاں مشرقِ وسطیٰ میں جاری وسیع تر تنازعے کے دوران سامنے آئی ہیں، جن کا آغاز فروری میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے ہوا تھا۔
حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں دو مارچ کو اسرائیل پر حملے شروع کیے، جس کے جواب میں اسرائیل نے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی۔ اس کارروائی میں چار ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے اور لبنان کی ایک چوتھائی آبادی اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئی۔ بے گھر ہونے والوں کی اکثریت حزب اللہ کے حامی شیعہ مسلم طبقے سے تعلق رکھتی تھی۔

موسمِ گرما کے دوران لڑائی میں بڑی حد تک کمی آ گئی، کیوں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے ایک عبوری معاہدے میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل تھی۔ اس کے علاوہ امریکہ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ ختم ہونے کے باوجود لبنان میں بڑے پیمانے پر جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوئی، تاہم اسرائیل جنوبی لبنان میں اب بھی مہلک حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
حزب اللہ ممکنہ طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے خدشے کے پیشِ نظر ہائی الرٹ پر ہے، کیوں کہ موجودہ صورتِ حال میں لبنان کے محاذ پر دوبارہ جنگ شروع ہو سکتی ہے۔
ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ حزب اللہ ابھی تک اپنے اسلحے کے ذخائر اور جنگجوؤں کو مکمل طور پر تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

تنظیم اب بھی اپنے ہتھیاروں کے ذخائر دوبارہ بھر رہی ہے۔ اِس نے رواں ماہ اِس بات کی تصدیق کی کہ لبنانی حکام نے جس دھماکا خیز مواد کو ضبط کیا تھا، وہ حزب اللہ کی ملکیت تھا اور اِسے اسرائیل کے خلاف استعمال کیا جانا تھا۔
حزب اللہ کے ایک عہدیدار اور لبنانی سکیورٹی ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ سارا مواد خاص طور پر دھماکا خیز مواد سے لیس ڈرونز کے لیے تھا۔
اسرائیل کی دور سے کنٹرول ہونے والی جنگی ٹیکنالوجی حزب اللہ کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوئی، ذرائع
لبنانی ذرائع میں سے ایک ذریعے اور تین سکیورٹی حکام کے مطابق، حزب اللہ کو اہم محاذوں پر ہونے والے نقصانات کے بعد اپنے کمانڈ اور کنٹرول کے نظام کی صلاحیتیں بھی بحال کرنا ہوں گی۔ اِن محاذوں میں سرحدی کشیدگی کے باعث اہمیت اختیار کرنے والا قصبہ بنت جبیل اور تزویراتی اہمیت کی حامل علی الطاہر پہاڑی بھی شامل ہے۔
اِن حکام نے بتایا کہ حزب اللہ نے چھوٹے چھوٹے جنگجو گروہوں کی صورت میں کارروائیاں کرنے اور ٹینک شکن راکٹوں کا محتاط استعمال کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی تھی۔ اِس کے نتیجے میں اِن محاذوں پر اِس کے بعض جنگجو گروہ الگ تھلگ ہو گئے اور انہیں اسرائیل کے دور سے چلائے جانے والے جنگی نظاموں کا مقابلہ کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ اِن نظاموں میں ہتھیاروں سے لیس ڈرونز اور مسلح، ریموٹ کنٹرول سے چلنے والی گاڑیاں شامل تھیں۔
اسرائیلی فوج نے روئٹرز کو بتایا کہ وہ جنوبی لبنان کی نگرانی اور اپنے فوجیوں کو لاحق خطرات کم کرنے کے لیے دور سے چلائے جانے والے نظام استعمال کرتی ہے۔













