کیا ٹوتھ پیسٹ چہرے کے دانوں سے نجات دلا سکتا ہے، حقیقت کیا ہے؟
کیا ٹوتھ پیسٹ چہرے کے دانوں سے نجات دلا سکتا ہے، حقیقت کیا ہے؟
جمعرات 29 اکتوبر 2026 5:58
دانوں کو چھیڑنے یا دبانے سے گریز کرنا چاہیے، کیوں کہ ایسا کرنے سے جلد پر مستقل داغ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے (فائل فوٹو: بریٹن ہیرلڈ)
ٹوتھ پیسٹ کو چہرے کے دانوں کے علاج کے لیے استعمال کرنے کا خیال نیا نہیں ہے، لیکن کیا واقعی اِس سے فائدہ ہوتا ہے یا ٹوتھ پیسٹ کا استعمال جلد کا مسئلہ مزید بڑھا سکتی ہے؟
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق یونیورسٹی آف ناٹنگھم کی ماہرِ امراضِ جلد اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر روزالنڈ سمپسن کہتی ہیں کہ ’جلد پر دانہ اُس وقت بنتا ہے جب چکنائی پیدا کرنے والا غدود بند ہو جائے اور اِس میں سوزش پیدا ہو جائے۔ مہاسے بننے کے عمل میں کئی عوامل شامل ہوتے ہیں، جن میں جلد کے مسام بند ہونا، چکنائی پیدا کرنے والے مادے کی مقدار بڑھنا اور کٹی بیکٹیریم ایکنیز نامی بیکٹیریا میں تبدیلیاں شامل ہیں۔ یہ بیکٹیریا قدرتی طور پر ہماری جلد پر موجود ہوتے ہیں۔‘
ٹوتھ پیسٹ کو دانوں پر لگانے کے پسِ پردہ یہ سوچ کارفرما ہے کہ اِس میں موجود بیکنگ سوڈا یا الکحل جیسے اجزا دانے کو خشک کر سکتے ہیں، جس سے وہ بظاہر چھوٹا دکھائی دینے لگتا ہے۔ تاہم، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ٹوتھ پیسٹ جلد کے لیے مفید ہے۔
ڈاکٹر روزالنڈ سمپسن کہتی ہیں کہ ’ٹوتھ پیسٹ میں موجود ایک یا دو اجزا جلد کو عارضی طور پر کچھ حد تک خشک کر سکتے ہیں۔ لیکن اِس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اِس میں شامل دیگر اجزا، مثلاً مینتھول اور سوڈیم لوریل سلفیٹ، شدید جلن کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ سوزش بڑھا کر، جلد پر داغ پڑنے اور رنگت میں تبدیلی کے مسائل کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔‘
وہ جلد کے دانوں کے علاج کے لیے ٹوتھ پیسٹ کا استعمال تجویز نہیں کرتیں۔ اُن کا اِس کی بجائے یہ کہنا ہے کہ ’مہاسوں کے لیے بنائے گئے ہائیڈروکولائیڈ پیچ دانوں کی سوجن اور سرخی گھٹانے اور سوزش میں کمی لانے میں مدد دے سکتے ہیں۔‘
علاوہ ازیں، دانوں کو چھیڑنے یا دبانے سے گریز کرنا چاہیے، کیوں کہ اِس سے جلد پر مستقل داغ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ متاثرہ جگہ پر گرم کپڑا رکھنے اور بغیر نسخے کے دستیاب جلد پر لگائی جانے والی ایسی دوا استعمال کرنے سے بھی فائدہ ہو سکتا ہے جس میں ایزیلائک ایسڈ شامل ہو۔
ڈاکٹر روزالنڈ سمپسن کے مطابق، مہاسوں کے علاج کے لیے جلد پر لگائی جانے والی ادویات کو طویل عرصے تک استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اِن کے سوزش کم کرنے کے لیے بہترین اثرات ظاہر ہونے میں 12 ہفتے لگتے ہیں۔
ٹوتھ پیسٹ کو چہرے کے دانوں کے علاج کے لیے استعمال کرنے کا تصور نیا نہیں ہے (فائل فوٹو: گیٹ رایل)
اُن کا کہنا ہے کہ ’علاج کرنے سے بہتر ہے کہ مہاسوں کو بننے سے روکا جائے۔ اِس لیے جلد کی دیکھ بھال کے معمول میں ایسی مصنوعات شامل ہونی چاہییں جو سوزش کم کریں اور بیکٹیریا کی افزائش روکنے کی خصوصیات رکھتی ہوں۔‘
ڈاکٹر روزالنڈ سمپسن کا کہنا ہے کہ اگر جلد کی سادہ دیکھ بھال کے طریقوں سے مہاسے کم نہ ہوں تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔