کیا موسم سرما میں ڈپریشن سے بچنے کے لیے صرف پانچ منٹ کی دھوپ کافی ہے؟
کیا موسم سرما میں ڈپریشن سے بچنے کے لیے صرف پانچ منٹ کی دھوپ کافی ہے؟
اتوار 25 اکتوبر 2026 7:08
صبح صرف پانچ منٹ باہر گزارنا بھی جسمانی گھڑی کو درست کرنے اور مزاج بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ (فوٹو: پکسابے)
برطانیہ میں موسم سرما کی آمد اور دن کی روشنی میں کمی کے باعث موسمی ڈپریشن (سیزنل ایفیکٹیو ڈس آرڈر) سے متاثرہ افراد کے لیے اگلے چند ماہ مشکل ہو سکتے ہیں۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس بیماری میں اداسی، تھکن، نیند کی خرابی اور روزمرہ سرگرمیوں میں دلچسپی ختم ہونے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں، تاہم مناسب احتیاط اور علاج سے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق، برطانیہ میں تقریباً ہر 30 میں سے ایک شخص موسمی ڈپریشن سے متاثر ہوتا ہے۔ یہ بیماری عموماً موسم خزاں یا سردیوں میں شروع ہوتی ہے اور بہار یا گرمیوں میں دن بڑے ہونے کے ساتھ اس کی علامات بہتر ہونے لگتی ہیں۔
میو کلینک ہیلتھ کیئر لندن کی جنرل پریکٹیشنر ڈاکٹر صفیہ دیبار کے مطابق، موسمی ڈپریشن ایک تسلیم شدہ طبی کیفیت ہے، جس میں متاثرہ شخص کی ذہنی اور جسمانی توانائی کم ہو جاتی ہے۔
بعض افراد ضرورت سے زیادہ سوتے ہیں، میٹھا اور نشاستہ دار غذا زیادہ کھاتے ہیں، وزن بڑھنے اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں۔
ماہر نفسیات ڈاکٹر نارمن روزنتھل، جنہوں نے 1984 میں موسمی ڈپریشن کو ایک الگ ذہنی کیفیت کے طور پر بیان کرنے والی اہم تحقیق کی، کہتے ہیں کہ اس بیماری کو اکثر معمولی سمجھ کر نظرانداز کیا جاتا ہے، حالانکہ متاثرہ افراد کی تکلیف حقیقی ہوتی ہے۔
ماہرین نے صبح کی قدرتی دھوپ، جسمانی سرگرمی، باقاعدہ نیند، متوازن غذا اور سماجی میل جول کو اہم قرار دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
رپورٹ کے مطابق، موسمی ڈپریشن کی مکمل وجہ ابھی واضح نہیں۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ سورج کی روشنی میں کمی دماغ کے ہائپوتھیلمس کے نظام کو متاثر کرتی ہے، جس سے نیند کے ہارمون میلاٹونن، مزاج سے متعلق سیروٹونن اور جسم کی اندرونی گھڑی متاثر ہو سکتی ہے۔
خواتین، سرد علاقوں میں رہنے والے افراد، قدرتی روشنی سے محروم ماحول میں کام کرنے والے اور پہلے سے ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا کرنے والے افراد اس بیماری کے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق خواتین میں اس کا امکان مردوں کے مقابلے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔
ماہرین نے صبح کی قدرتی دھوپ، جسمانی سرگرمی، باقاعدہ نیند، متوازن غذا اور سماجی میل جول کو اہم قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر دیبار کے مطابق، صبح صرف پانچ منٹ باہر گزارنا بھی جسمانی گھڑی کو درست کرنے اور مزاج بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
رپورٹ میں روشنی کے علاج، نفسیاتی مشاورت اور ضرورت پڑنے پر اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کو بھی مؤثر طریقوں میں شامل کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ علامات مسلسل دو سال تک ایک ہی موسم میں ظاہر ہوں اور دوسرے موسم میں ختم ہو جائیں تو موسمی ڈپریشن کی تشخیص میں مدد مل سکتی ہے۔