Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا یہ درست ہے کہ روزانہ 10 ہزار قدم چلنا صحت کے لیے مفید ہے؟

روزانہ 10 ہزار قدم چلنے کی ضرورت کا تصور طبی تحقیق سے نہیں بلکہ 1960 کی دہائی میں ایک تشہیری مہم سے سامنے آیا تھا (فوٹو: دی اَپ سائیڈ)
یونیورسٹی آف ایسٹ لندن میں ورزش اور انسانی جسم پر اِس کے اثرات کے ماہر سینیئر لیکچرر جیک میک نامارا کے مطابق روزانہ 10 ہزار قدم چلنے کی ضرورت کا تصور طبی تحقیق سے نہیں بلکہ 1960 کی دہائی میں قدم گننے والے ایک آلے کی تشہیری مہم سے سامنے آیا تھا۔
10 ہزار قدم چلنے کا ہدف یاد رکھنا آسان تھا اور یہ خیال مقبول ہوگیا، حالانکہ اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں تھا کہ صحت کے لیے روزانہ 10 ہزار قدم چلنا کوئی مخصوص حد ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق جیک میک نامارا کہتے ہیں کہ ’محققین نے جب اِس تصور کا جائزہ لیا تو انہیں معلوم ہوا کہ چہل قدمی کے صحت کے لیے فوائد ہیں۔ اِسی لیے اِس خیال کو مکمل طور پر بے بنیاد سائنسی تصور قرار دے کر مسترد نہیں کیا گیا۔‘
تحقیقی شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ چہل قدمی دل اور دورانِ خون کی صحت بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ دل اور پھیپھڑوں کی مشترکہ کارکردگی کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ علاوہ ازیں، یہ بعض اقسام کے سرطان میں مبتلا ہونے کے امکانات بھی کم کرتی ہے۔ چہل قدمی مسلسل بیٹھے رہنے کے دورانیے کو بھی توڑتی ہے، جو صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
تاہم، جیک میک نامارا کے مطابق، جب اِس موضوع پر منظم تحقیقی جائزوں اور بڑے پیمانے پر ہونے والی تحقیق کا جائزہ لیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ قدموں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ صحت کو پہنچنے والے اضافی فوائد بتدریج کم ہوتے جاتے ہیں۔
جیک میک نامارا کہتے ہیں کہ ’ کوئی شخص اگر سست طرزِ زندگی گزار رہا ہو اور روزانہ صرف دو ہزار قدم چلتا ہو تو اِس تعداد کو بڑھا کر چار ہزار قدم کرنے سے صحت میں بہت نمایاں بہتری آسکتی ہے۔ لیکن روزانہ آٹھ ہزار قدم چلنے والے شخص کے لیے یہ تعداد بڑھا کر دس ہزار کرنا، یا دس ہزار سے بڑھا کر بارہ ہزار کرنا، نسبتاً بہت کم فائدہ مند ہے۔‘
اُن کے مطابق اِس سے بھی کچھ فوائد حاصل ہوتے ہیں، لیکن اتنے نہیں جتنے لوگ توقع کرتے ہیں۔

چہل قدمی مسلسل بیٹھے رہنے کے دورانیے کو توڑتی ہے، جو صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے (فوٹو: ہیلتھ ڈائجسٹ)

اِس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا چاہیے۔ جیک میک نامارا کا کہنا ہے کہ ’آپ کو اگر چہل قدمی کرنا پسند ہے تو جتنی دیر چاہیں چلیں۔ مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب لوگ محض قدموں کی مخصوص تعداد پوری کرنے کے لیے چلنے لگتے ہیں، خصوصاً جب ہدف پورا نہ ہونے پر خود کو ملامت کرتے یا سزا دیتے ہیں۔‘
آپ اگر پہلے ہی روزانہ خاصے قدم چلتے ہیں تو جیک میک نامارا مشورہ دیتے ہیں کہ ’ممکن ہو تو اپنی چہل قدمی کچھ کم کر کے زیادہ جسمانی مشقت والی ورزش کریں، تاکہ صحت کو زیادہ فوائد حاصل ہوسکیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’دوڑنے جائیں، تیز رفتاری سے تیراکی کریں، چڑھائی پر چلیں یا تیز قدموں سے چہل قدمی کریں، یعنی کوئی ایسی سرگرمی اختیار کریں جس سے آپ کی سانس پھولنے لگے۔ آپ کے لیے قدرے زیادہ سخت ورزش کرنا کہیں زیادہ فائدہ مند ہوگا۔‘

شیئر: