Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کافی، خوشبو اور زندگی، ہم یہ سب کیوں نہیں کر پاتے؟

’زندگی کے سب جھمیلوں سے کچھ وقت اپنے لیے نکالیں، اپنے آپ کو دیکھیں، مزا لیں‘ (فوٹو: پکسابے)
یہ بہت سال پہلے کی بات ہے۔ ان دنوں کی جب بقول شخصے آتش جوان تھا، یعنی یونیورسٹی کے دنوں کی۔ میرا آبائی شہر احمد پور شرقیہ پنجاب کے بہت سے دوسرے چھوٹے شہروں کی طرح ہے، پسماندہ، تھوڑا اداس، تھوڑا خفا، شاکی اور نیم خوابیدہ سا۔
جہاں زندگی سست چلتی ہے، رات آنگن میں جلد اتر آتی ہے اور لگتا ہے سورج ہمیں دیکھنے، جگانے بلکہ جھنجھوڑنے کے لیے جلد نمودار ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ وہاں ہم لوگ سال کے آٹھ ماہ صحن ہی میں سوتے ہیں، بے شک چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ پیڈسٹل فین کی ہوا، شام کو لگا پانی کا چھڑکاؤ اور بچھی چارپائیاں، جن پر پیروں کی طرف ایک ایکسٹرا چادر رکھنا لازمی ہوتا، کیونکہ آگ برساتے دنوں میں بھی راتیں خنک ہو جاتی ہیں۔

ان دنوں شام کو ہم دو تین دوست ایوننگ واک پر جایا کرتے۔ ہمارے جیسے شہروں یا بڑے قصبات میں ایک آدھ سڑک ہی ایسی ہوتی ہے جس پر چہل قدمی کی جا سکے، جسے بعد میں مورننگ یا ایوننگ واک کہہ کر گلیمرس بنایا جائے۔ عام طور سے یہ ریلوے سٹیشن جانے والی سڑک ہوتی ہے۔ خیر ہم بھی اسی سڑک پر جاتے اور کبھی دو روپے کا پلیٹ فارم ٹکٹ لے کر اندر چلے جاتے، گھومتے پھرتے اور ٹرین آنے پر خاموش، پرسکون فضا میں جو اچانک ہلچل مچتی، اسے دیکھ کر لطف اٹھاتے۔

سٹیشن کے باہر والا ہوٹل
واپسی پر سٹیشن کے باہر ہی ایک چائے والا ہوٹل تھا، وہاں بیٹھ کر ہم دودھ پتی پیتے جس میں چینی کی معقول مقدار ہوتی۔ اس منحوس شوگر کی بیماری سے تب واسطہ نہیں پڑا تھا اور ہمارا خیال تھا کہ چائے شاید ہوتی ہی میٹھی ہے۔

اس ہوٹل میں ایک کھڑکی تھی جو باہر ایک بڑے کشادہ پلاٹ کی جانب کھلتی تھی۔ لکڑی کے پٹ اور لوہے کی سلاخیں۔ کھڑکی عموماً کھلی رہتی اور اس کے ساتھ والی میز پر بیٹھنے والے اپنی کہنی وہاں ٹکا کر مزے سے بیٹھ سکتے۔ باہر کھلی جگہ تھی اور پھر سٹیشن کی مخصوص سرخ اینٹوں والی عمارت۔

وہاں کئی بار دیکھا کہ ایک 35/40 برس کا شخص آ کر بیٹھتا، ایک ایک گھونٹ لے کر چائے پیتا اور خاموشی سے کبھی کبھار باہر نظر ڈال لیتا۔ صاف نظر آتا کہ وہ اس چائے سے مزا لے رہا ہے۔ کبھی کبھار وہ بیڑی بھی سلگا لیتا۔ جنہیں نہیں معلوم، ان کے لیے اطلاعاً عرض ہے کہ بیڑی سگریٹ کی بہن ہی ہے، جو خاص وضع کے پتوں سے بنتی ہے، نسبتاً سستی اور شاید زیادہ نقصان دہ۔

ہمیں ان صاحب کے استغراق سے زیادہ ان کے چہرے پر چھائی آسودگی پر رشک آتا۔ یوں لگتا جیسے وہ ان لمحات کا پورا لطف اٹھا رہا ہے۔ چائے سے اتنا محظوظ ہوتے کم لوگوں کو دیکھا۔ کئی بار وہ ایک سے زیادہ کپ بھی پیتا۔ ہم کچھ دور بیٹھے کن اکھیوں سے اسے دیکھتے اور آپس میں تبصرے کرتے کہ کیسے مزے سے چائے پی رہا ہے، جیسے کسی اور دنیا میں چلا گیا ہو۔ سچ پوچھیں تو تب یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ اس اکیلے، چپ چاپ بیٹھے آدمی کو آخر اتنا سکون کس بات کا ہے۔
بہت بعد میں جا کر سمجھ آئی کہ دراصل یہ اپنی مصروف، بھاگتی دوڑتی یا کبھی تلخ اور تکلیف دیتی زندگی سے وقفہ لینا ہوتا ہے۔ ان لمحوں سے لطف اٹھانا، اپنی پوری توجہ، اپنا سو فی صد اس وقت کو دینا۔

لاہور میں نہر کنارے چائے کا ڈھابہ

جب لاہور آیا اور صحافت شروع کی تو ابتدائی برسوں میں لاہور کے ایک تعلیمی ادارے کے ہاسٹل میں بطور آؤٹ سائیڈر رہا۔ 90 کے عشرے میں یہ عام تھا۔ لاہور سے باہر کے نوجوان یہاں آتے، کوئی جاب وغیرہ کرتے یا کسی نجی تعلیمی ادارے میں پڑھ رہے ہوتے تو سرکاری تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز میں اپنے شہر کے لڑکوں کے ساتھ کچھ عرصہ رہ لیتے، جب کوئی اور انتظام ہو جاتا تو وہاں شفٹ ہو جاتے۔
نہر کنارے واقع ان ہاسٹلز کی لوکیشن بڑی خوبصورت اور سحر انگیز تھی۔ ان دنوں لاہور کی نہر والی سڑک ابھی سگنل فری نہیں بنی تھی اور ہاسٹلز کے سامنے ہی ایک چائے کا ڈھابہ تھا جہاں کمال کی دودھ پتی ملتی۔
دودھ اس کا بہت عمدہ تھا اور ایسی دلکش، گلابی چائے سامنے آتی کہ دیکھتے ہی دل شاد ہو جاتا۔ کیا ذائقہ تھا، آج یہ سطریں لکھتے ہوئے 28/30 سال پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔ وہاں ہم بھی ان لمحات سے لطف لینے کی کوشش کرتے اور کوشش ہوتی کہ اس وقت خاموش رہا جائے، کسی بحث میں نہ الجھا جائے۔

جان سینا کی فلیٹ وائٹ


جان سینا کافی سے لطف اٹھانے کے لیے 90 منٹ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

گزشتہ روز نیویارک ٹائمز کے اتوار کے آرٹس سیکشن میں چھپنے والے ایک انٹرویو میں معروف ریسلر اور اداکار جان سینا نے مزے کی باتیں کہیں، اسے پڑھ کر اچھا لگا۔ جان سینا نے کئی سوالات کے جواب دیے، میں ایک خاص حوالے سے ان کے انٹرویو کا اقتباس دے رہا ہوں۔
جان سینا کہتے ہیں کہ ’20 برس سے زیادہ سفر کرنے اور کئی بار دنیا کا چکر لگانے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں نے ایئر پورٹس، جم اور اکھاڑوں کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ اب میں اس بات کا اہتمام کرتا ہوں کہ کافی کے لیے وقت نکالوں۔‘
’میری پسندیدہ کافی ’فلیٹ وائٹ‘ ہے، یعنی ایسپریسو کا ڈبل شاٹ جو چھ سے آٹھ اونس کے مگ میں بھاپ دیے ہوئے دودھ کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ میں اس تجربے سے لطف اٹھانے کے لیے 90 منٹ رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ جس اہتمام اور توجہ سے یہ کافی بنائی جاتی ہے، اس کے ذریعے مجھے زندگی کو دیکھنے کا ایک موقع ملتا ہے۔‘
کیا بات ہے، بندہ پہلوان ہی رہا زندگی بھر، مگر کیا خوبصورت سبق سیکھے ۔ یہ ہے درست طریقہ۔ غور کریں کہ دنیا کے بہت سے چکر لگانے والا آدمی خود مان رہا ہے کہ وہ بس زندگی بھر دو چار چیزوں ہی میں لگا رہا، جو اس کا معاش، اس کا کیریئر تھا، اس کے سوا اس نے دیکھا کچھ نہیں۔ اب مگر اسے احساس ہو گیا ہے۔
ہم میں سے بہت سوں کی زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے، بس ہمارے ہاں ایئرپورٹ کی جگہ دفتر ہے اور اکھاڑا وہ ٹریفک جس میں روز کشتی لڑ کر گھر پہنچتے ہیں۔

مولانا آزاد کی صبح والی چائے

جان سینا کی بات پڑھتے ہوئے مجھے مولانا ابوالکلام آزاد یاد آ گئے۔ مولانا کی سحرانگیز کتاب غبار خاطر جنہوں نے پڑھی ہے، وہ جانتے ہیں کہ مولانا کو چائے سے کیسا عشق تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دنوں میں احمد نگر کے قلعے میں نظر بندی کے دوران انہوں نے اپنے دوست حبیب الرحمن خان شیروانی کے نام جو خط لکھے، ان میں بڑے مزے لے لے کر اپنی چائے کا ذکر کیا ہے۔ وہ چین کی ایک خاص چائے پیتے تھے جس میں چنبیلی کی خوشبو بسی ہوتی، اور وہ بھی دودھ کے بغیر۔

مولانا دودھ والی چائے کے سخت خلاف تھے اور ایسی چائے پینے والوں پر کٹیلے طنز کرتے۔ جیل میں وہ صبح منہ اندھیرے اٹھتے اور چائے لے کر اکیلے بیٹھ جاتے۔ ان کے نزدیک دن کا سب سے قیمتی وقت یہی تھا، جب ابھی دنیا جاگی نہیں ہوتی۔ ذرا سوچیں، قید کے کیسے کٹھن دن اور ان میں بھی مولانا نے اپنے لیے چھوٹی سی سپیس کریئیٹ کر لی تھی ،جس میں وہ کچھ دیر کے لیے اس پورے ماحول سے باہر ہوجاتے۔
خوشبو کا جادو

چائے تو ہم پاکستانی دن میں کئی بار پیتے ہیں، پھر وہ آسودگی کیوں نہیں ملتی جو ہم برسوں سے ڈھونڈ رہے ہیں (فوٹو: پکسابے)

اب ذرا خوشبو کی بات ہو جائے۔ چائے ہو یا کافی، آدھا مزا تو اس کی مہک میں ہے۔ دیگچی یا سوس پین میں دودھ اور پتی ابلتے ہیں تو جو خوشبو اٹھتی ہے وہ پیالی ہاتھ میں آنے سے پہلے ہی آدھا کام کر دیتی ہے۔
فرانسیسی ناول نگار مارسل پروست کا قصہ ادب پڑھنے والوں کو یاد ہو گا۔ اس کے مشہور ناول کا راوی ایک روز میڈلین نام کا ایک چھوٹا سا کیک چائے میں ڈبو کر کھاتا ہے اور اس ذائقے اور مہک کے ساتھ ہی اس کا پورا بچپن ایک لمحے میں لوٹ آتا ہے۔
ہم میں سے کون ہے جس کے ساتھ ایسا نہ ہوا ہو؟ کسی گلی سے گزرتے ہوئے دیسی گھی کے پراٹھوں کی مہک آئی اور ماں کا باورچی خانہ یاد آ گیا۔ آج یہ کالم لکھتے ہوئے نہر کنارے والے اس ڈھابے کی گلابی چائے کا ذائقہ ہی نہیں، اس کی مہک بھی جیسے پاس آ گئی ہے۔

ہم یہ کیوں نہیں کر پاتے؟

سوال مگر یہ ہے کہ ہم یہ سب کیوں نہیں کر پاتے؟ چائے تو ہم پاکستانی دن میں کئی بار پیتے ہیں، پھر وہ آسودگی کیوں نہیں ملتی جو ہم برسوں سے ڈھونڈ رہے ہیں۔
میرے خیال میں اس کا جواب ہم سب کی جیب میں پڑا ہے، موبائل فون۔ آج کسی ڈھابے یا کیفے میں چلے جائیں، چار دوست ایک میز پر بیٹھے ہیں، چائے سامنے پڑی ٹھنڈی ہو رہی ہے اور ہر ایک کی گردن اپنے فون پر جھکی ہے۔ چائے پی تو جا رہی ہے مگر اس کا ذائقہ کسی کو یاد نہیں۔ ویسے تو آپس کی بات ہے، خاکسار بھی اس معاملے میں سب کی طرح ہی ہے۔ اکثر چائے کا کپ ایک ہاتھ میں ہوتا ہے اور فون دوسرے میں۔
90 نہ سہی، چند منٹ تو نکالیں

’ایسے چند لمحے نصیب ہوں جب دل پر کوئی بوجھ نہ ہو اور فون خاموش ہو‘ (فوٹو: پکسابے)

ممکن ہے اتنا پڑھنے کے بعد کوئی صاحب کہیں، جان سینا کے پاس پیسہ بھی ہے اور فرصت بھی، وہ 90  منٹ کافی پر لگا سکتا ہے۔ ہم عام لوگ یہ عیاشی کہاں سے لائیں؟
بات درست ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اصل معاملہ کسی خاص ٹائم فریم کا نہیں، توجہ کا ہے۔ 90 منٹ نہ سہی، چند منٹ ہی نکال لیں۔ اہم یہ ہے کہ اس دوران فون الٹا کر کے رکھ دیں، کوئی بحث نہ چھیڑیں، کوئی حساب کتاب نہ کریں۔ بس چائے کی مہک لیں، گھونٹ گھونٹ پئیں اور سامنے جو بھی منظر ہے، چاہے وہ ایک عام سی گلی ہی کیوں نہ ہو، اسے دیکھیں۔
تو بھائی لوگو، اپنے دن میں کم از کم ایک وقت تو ایسی کسی کافی، چائے کو دے دیں، یا چلیں اگر آپ کو کوئی ہربل قہوہ پسند ہے تو اسے ہی سہی۔ سردیاں آ رہی ہیں، ادرک والی چائے ہی پی لیا کریں، گرین ٹی بھی چلے گی۔ اہم مگر یہ ہے کہ زندگی کے سب جھمیلوں سے کچھ وقت اپنے لیے نکالیں، اپنے آپ کو دیکھیں، مزا لیں اور زندگی پر ایک نظر باہر سے بھی ڈال لیں۔ وہی آؤٹ سائیڈر لُک، جو برسوں پہلے احمد پور شرقیہ کے سٹیشن والے ہوٹل کی کھڑکی کے پاس بیٹھا وہ گمنام آدمی ڈالا کرتا تھا۔
اللہ کرے ہم سب کو دن میں ایسے چند لمحے نصیب ہوں جب دل پر کوئی بوجھ نہ ہو، فون خاموش ہو اور پیالی سے اٹھتی خوشبو ہمیں تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی، دنیا کی اس بھاگ دوڑ سے دور لے جائے۔

شیئر: