ڈائٹنگ کے بعد وزن پھر کیوں بڑھ جاتا ہے، ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ڈائٹنگ کے بعد وزن پھر کیوں بڑھ جاتا ہے، ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ہفتہ 24 اکتوبر 2026 7:16
جب انسان وزن کم کرتا ہے تو جسم اسے ایک غیر معمولی صورتحال سمجھتا ہے (فوٹو: پکسابے)
وزن کم کرنا بظاہر مشکل کام لگتا ہے، لیکن بہت سے ماہرین کے مطابق اصل چیلنج وزن گھٹانے کے بعد اسے برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ متعدد افراد مہینوں کی محنت، ورزش اور پرہیز کے ذریعے وزن تو کم کر لیتے ہیں، مگر کچھ عرصے بعد ان کا وزن دوبارہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف قوتِ ارادی یا عادات کا مسئلہ نہیں بلکہ جسم کے فطری حیاتیاتی نظام کا حصہ بھی ہے۔ جب انسان وزن کم کرتا ہے تو جسم اسے ایک غیر معمولی صورتحال سمجھتا ہے اور کھوئی ہوئی توانائی کو واپس لانے کی کوشش شروع کر دیتا ہے۔
وزن کم ہونے کے بعد جسم میں کئی اہم تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ چربی کے خلیات سے خارج ہونے والا ہارمون لیپٹن کم ہو جاتا ہے، جو دماغ کو توانائی کے ذخائر کے بارے میں معلومات دیتا ہے۔
اس کی سطح گرنے سے بھوک بڑھ سکتی ہے اور جسم کم توانائی خرچ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ دوسری طرف گریلین نامی ہارمون، جو بھوک کو بڑھاتا ہے، زیادہ فعال ہو سکتا ہے۔ نتیجتاً انسان پہلے سے زیادہ کھانے کی خواہش محسوس کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق وزن کم ہونے کے بعد جسم کا میٹابولزم بھی سست پڑ سکتا ہے۔ چونکہ جسم کا سائز کم ہو جاتا ہے، اس لیے اسے پہلے کے مقابلے میں کم کیلوریز درکار ہوتی ہیں۔ بعض لوگوں میں تو جسم توقع سے بھی کم کیلوریز خرچ کرتا ہے، جسے ایڈاپٹو تھرموجینیسس کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزن کم کرنے کے بعد اسے برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
سخت ڈائٹس بھی اس مسئلے کو بڑھا سکتی ہیں۔ بہت کم کیلوریز والی غذائیں یا لمبے عرصے تک بھوکا رہنے کے طریقے جسم کو دفاعی موڈ میں لے جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں انسان زیادہ تھکاوٹ محسوس کرتا ہے، روزمرہ سرگرمیاں کم ہو جاتی ہیں اور کیلوریز جلنے کی رفتار مزید کم ہو جاتی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ڈائٹنگ کے دوران پروٹین کی مناسب مقدار اور طاقت بڑھانے والی ورزشیں شامل نہ ہوں تو چربی کے ساتھ پٹھوں کا حجم بھی کم ہو سکتا ہے۔ پٹھوں کی کمی جسم کی توانائی کی ضرورت مزید کم کر دیتی ہے، جس سے وزن دوبارہ بڑھنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان افراد بھی ان حیاتیاتی ردِعمل سے محفوظ نہیں ہوتے (فوٹو: پکسابے)
نیند اور ذہنی دباؤ بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ناکافی نیند بھوک سے متعلق ہارمونز کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ مسلسل تناؤ انسان کو ضرورت سے زیادہ کھانے کی طرف مائل کر سکتا ہے۔ اسی طرح غیر صحت بخش خوراک کی آسان دستیابی اور روزمرہ معمولات میں بے ترتیبی بھی وزن میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان افراد بھی ان حیاتیاتی ردِعمل سے محفوظ نہیں ہوتے۔ خاص طور پر جنوبی ایشیائی افراد میں نسبتاً کم وزن پر بھی ذیابیطس، فیٹی لیور اور انسولین مزاحمت جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، اس لیے صرف وزن کے بجائے مجموعی صحت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
وزن برقرار رکھنے کے لیے ماہرین متوازن غذا، مناسب پروٹین، باقاعدہ ورزش اور اچھی نیند پر زور دیتے ہیں۔ چہل قدمی، سائیکلنگ، تیراکی اور اسٹرینتھ ٹریننگ جیسی سرگرمیاں نہ صرف کیلوریز خرچ کرتی ہیں بلکہ پٹھوں اور میٹابولزم کو بھی بہتر حالت میں رکھتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق وزن کا دوبارہ بڑھنا اکثر روزمرہ عادات کے مجموعی اثرات کا نتیجہ ہوتا ہے (فوٹو: پکسابے)
شدید موٹاپے کے بعض مریضوں کے لیے بیریاٹرک سرجری بھی ایک مؤثر علاج سمجھی جاتی ہے، تاہم سرجری کے بعد بھی صحت مند طرزِ زندگی اور مسلسل طبی نگرانی ضروری رہتی ہے۔
ماہرین کے مطابق وزن کا دوبارہ بڑھنا اکثر جسم کے فطری ردِعمل، ہارمونل تبدیلیوں، میٹابولزم میں کمی اور روزمرہ عادات کے مجموعی اثرات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اسی لیے دیرپا نتائج کے لیے وقتی ڈائٹ کے بجائے مستقل اور متوازن طرزِ زندگی اختیار کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔