شان اور ہائیڈی کرائپ اپنے بیٹے کے ہائی سکول سے آنے والی اُس فون کال کو کبھی نہیں بھول سکیں گے جس میں اِنہیں بتایا گیا تھا کہ ڈیوس کو ہنگامی طبی امداد کے لیے ہسپتال لے جایا جا رہا ہے۔
امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شان کرائپ نے تقریباً ایک دہائی پہلے پیش آنے والے اُس دن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’اُس نے اِنرجی ڈرنک ایک ہی سانس میں پی لیا تھا۔ وہ خود کو صرف دوسروں کے سامنے زبردست اور باکمال ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
کچھ ہی دیر بعد اِس نوعمر لڑکے کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو گئی اور وہ جان سے چلا گیا۔ اِس طرح کی اموات اگرچہ شاذونادر ہی ہوتی ہیں لیکن طبی ماہرین برسوں سے خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ اِنرجی ڈرنکس میں کیفین کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو بچوں کی صحت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اِس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے، دھڑکن تیز ہونے، نیند میں خلل، جسم میں پانی کی کمی، بے چینی، بلند فشارِ خون اور دورے پڑنے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
انرجی ڈرنکس چھوڑیں، توانائی بڑھانے والی غذائیں استعمال کریںNode ID: 880743
امریکہ ڈاکٹروں کے قائم کردہ ایک نئے اتحاد نے اِن خطرات کی جانب توجہ دلائی ہے جن کا سامنا بچوں کو اِنرجی ڈرنکس کے استعمال کی وجہ سے کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اُن کی تشویش صرف کسی ایک کمپنی کے اِنرجی ڈرنکس تک محدود نہیں، بلکہ اِنرجی ڈرنکس بنانے والی تمام کمپنیوں اور اِس نوعیت کی ہر شراکت داری سے متعلق ہے۔
اس مہم میں شامل امریکی ریاست آئیڈاہو کے ماہر امراضِ قلب ڈاکٹر میتھیو نیلسن نے کہا کہ ’بچے جب یہ دیکھیں گے کہ وہ جن جامعات اور کھلاڑیوں کو پسند کرتے ہیں اور ان جیسا بننا چاہتے ہیں، وہی اِنرجی ڈرنکس کی تشہیر کر رہے ہیں تو بچے انہیں کھیلوں کے دوران استعمال ہونے والے مشروبات سمجھنے لگیں گے حالانکہ یہ اِس نوعیت کے مشروبات نہیں ہیں۔‘
کیفین کی زیادہ مقدار بچوں کو کئی طرح سے نقصان پہنچا سکتی ہے
امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس سمیت طبی شعبے سے وابستہ مختلف اداروں کا کہنا ہے کہ بچوں اور نوعمروں کو اِنرجی ڈرنکس سے مکمل طور پر اجتناب کرنا چاہیے۔ لیکن بہت سے بچے اس کے باوجود یہ مشروبات استعمال کر رہے ہیں۔
یونیورسٹی آف مشی گن کے زیرِ انتظام اور وفاقی مالی معاونت سے چلنے والے سروے ’مانیٹرنگ دی فیوچر‘ کے تازہ ترین نتائج کے مطابق، بارہویں جماعت کے 23 فیصد، دسویں جماعت کے 20 فیصد اور آٹھویں جماعت کے 18 فیصد طلبہ نے بتایا کہ وہ روزانہ اِنرجی ڈرنکس پیتے ہیں۔

مختلف مصنوعات میں کیفین کی مقدار مختلف ہوتی ہے جو فی خوراک 80 سے 300 ملی گرام تک ہو سکتی ہے۔ اِس کے مقابلے میں آٹھ اونس یعنی تقریباً 237 ملی لیٹر کافی کے ایک عام کپ میں 80 سے 100 ملی گرام کیفین ہوتی ہے جبکہ بعض سافٹ ڈرنکس میں اس کی مقدار 50 ملی گرام یا اِس سے بھی کم ہوتی ہے۔
امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس نے یہ سفارش کی ہے کہ 12 سے 18 سال کی عمر کے بچوں کو روزانہ کیفین کی مقدار 100 ملی گرام تک محدود رکھنی چاہیے۔ ِاس سے کم عمر بچوں کو کیفین کے استعمال سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
ریاست انڈیانا سے تعلق رکھنے والی ماہرِ اطفال ڈاکٹر تمارا ہینن جو مذکورہ اکیڈمی کی غذائیت سے متعلق کمیٹی کی سربراہ بھی ہیں، نے بتایا کہ ’کیفین اور ایسے تمام اجزا جو دل کی دھڑکن تیز اور اعصابی نظام کو زیادہ متحرک کرتے ہیں، اُن کے زیادہ استعمال کا مطلب یہ ہے کہ’جسم کے اندر مختلف افعال معمول سے زیادہ تیزی سے ہونے لگتے ہیں جس سے جسمانی نظام پر ضرورت سے زیادہ دباؤ پڑ سکتا ہے۔‘
اُنہوں نے اس کیفیت کا موازنہ ایک ایسے بلینڈر سے کیا جسے مسلسل چلانے کے نتیجے میں اُس کی موٹر ضرورت سے زیادہ گرم ہو جائے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’آپ لوگوں کے جسم میں ایسے اجزا داخل کرتے ہیں تو کچھ ایسا ہی اثر ہو سکتا ہے۔ دل پر حد سے زیادہ دباؤ پڑ سکتا ہے، اعصابی نظام کا توازن بگڑ سکتا ہے اور اِس کے انتہائی سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔‘
دل اور دورانِ خون سے متعلق یہ خطرات اگرچہ حقیقی ہیں، تاہم ہارورڈ میڈیکل سکول کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اِس عام خیال کے حق میں کوئی معتبر سائنسی ثبوت موجود نہیں کہ کیفین کسی شخص کے قد کو بڑھنے سے روک سکتی ہے۔
کیفین کے مختلف ذرائع کو یکجا کرنا خطرناک ہو سکتا ہے
ڈاکٹر تمارا ہینن کے مطابق پہلے سے ہی بلند فشارِ خون جیسی بیماریوں میں مبتلا بچوں کو خاص طور پر زیادہ خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ تاہم، صحت مند بچے بھی اگر ایسے اجزا کی ضرورت سے زیادہ مقدار استعمال کریں تو انہیں سنگین طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اِن میں کم عمر کھلاڑی بھی شامل ہیں۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ بچے اکثر کیفین والے مختلف مشروبات ایک ہی دن میں استعمال کرتے ہیں۔ ڈیوس کرائپ کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا تھا جو سال 2017 میں انتقال کر گیا تھا۔
ڈیوس کو پہلے سے دل کی کوئی بیماری لاحق نہیں تھی۔ اِس کے باوجود اُس نے اِنرجی ڈرنک پینے سے پہلے اُسی دن ماؤنٹین ڈیو سافٹ ڈرنک اور میکڈونلڈز کی ایک کافی لاتے بھی پی تھی۔
اِنرجی ڈرنک پینے کے بعد اُس کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو گئی۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا جب ڈیوس نے اِنرجی ڈرنک پی ہو، تاہم وہ باقاعدگی سے یہ مشروبات استعمال نہیں کرتا تھا۔
شان کرائپ نے کہا کہ ’ہم نے اُس سے بات کی تھی اور اُسے بتایا تھا کہ یہ مشروبات صحت کے لیے اچھے نہیں ہیں۔ لیکن ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔‘
بچوں کے تحفظ کی کوشش کرتے ہیں: صنعتی تنظیم
امریکن بیوریج ایسوسی ایشن، جس میں اُن کمپنیوں کی نمائندگی ہے جو اِس شعبے کی مجموعی مارکیٹ کا 94 فیصد حصہ رکھتی ہیں، نے کہا ہے کہ اِس کے ارکان رضاکارانہ طور پر اپنی مصنوعات کے لیبل پر کیفین کی مجموعی مقدار درج کرتے ہیں۔ اِن لیبلز پر اِس نوعیت کی تنبیہات بھی درج ہوتی ہیں کہ ’یہ مشروب بچوں، حاملہ یا بچوں کو دودھ پلانے والی خواتین اور کیفین کے لیے حساس افراد کے استعمال کے لیے نہیں ہے۔‘

تنظیم کے ارکان مڈل اور ہائی سکولوں سمیت جماعت اول سے بارہویں تک کے تعلیمی اداروں میں اِنرجی ڈرنکس فروخت بھی نہیں کرتے اور نہ ہی اِن کی تشہیر کرتے ہیں۔
اِنرجی ڈرنکس بنانے والی ایک کمپنی مونسٹر اِنرجی نے ایک بیان میں کہا کہ کیفین اور مشروبات میں استعمال ہونے والے دیگر اجزا مختلف اقسام کی غذائی مصنوعات میں بھی پائے جاتے ہیں۔ کمپنی نے مزید کہا کہ ’عام طور پر استعمال ہونے والے اِنرجی ڈرنکس دنیا بھر میں 30 سال سے زیادہ عرصے سے فروخت کیے جا رہے ہیں اور اب تک دنیا بھر میں اِنرجی ڈرنکس کے ایک کھرب سے زیادہ کین فروخت ہو چکے ہیں جنہیں محفوظ طریقے سے استعمال کیا گیا ہے۔‘
بچوں کو کیفین کی زیادتی کے خطرات سے کیسے آگاہ کیا جائے؟
امریکی مراکز برائے انسدادِ امراض و تحفظِ صحت کے مطابق، بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اساتذہ اور کھیلوں کے کوچ انہیں کیفین کی زیادہ مقدار کے نقصانات اور اِنرجی ڈرنکس اور سپورٹس ڈرنکس کے درمیان فرق سے آگاہ کر سکتے ہیں۔
سپورٹس ڈرنکس اِس مقصد کے لیے تیار کیے جاتے ہیں کہ جسمانی سرگرمی کے دوران پسینہ آنے سے جسم میں پانی اور الیکٹرولائٹس، یعنی نمکیات اور معدنی اجزا کی جو کمی ہوتی ہے، انہیں پورا کرنے میں مدد مل سکے۔
والدین اور دیگر بالغ افراد بھی بچوں کے سامنے اِنرجی ڈرنکس استعمال نہ کرکے اُن کے لیے اچھی مثال قائم کر سکتے ہیں۔













