سعودی ایئرپورٹس پر حوثی حملوں سے جنگی جرائم کے سوالات کھڑے ہوئے ہیں: سربراہ ادارہ برائے انسانی حقوق
سعودی ایئرپورٹس پر حوثی حملوں سے جنگی جرائم کے سوالات کھڑے ہوئے ہیں: سربراہ ادارہ برائے انسانی حقوق
جمعرات 29 اکتوبر 2026 8:08
حوثیوں کی جانب سے ریاض ایئرپورٹ سمیت کئی ہوائی اڈوں اور شہری مقامات پر حملے ہو چکے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا ہے کہ یمن میں موجود حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور دیگر شہری بنیادی ڈھانچوں پر حملے ’جنگی جرائم‘ سے متعلق سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
عرب نیوز کے ساتھ بات چیت میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے اقوام متحدہ کے درجنوں ملازمین کو حراست میں لیے جانے کی بھی مذمت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت کسی شہری ہوائی اڈے پر صرف اسی صورت میں حملہ کیا جا سکتا ہے جب وہ ایک جائز فوجی ہدف ہو۔
انہوں نے بدھ کو نیویارک میں ایک پریس بریفنگ کے دوران بھی گفتگو کی۔
ان کے مطابق ’اگر آپ شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچوں پر حملے شروع کر دیتے ہیں تو یہ یقیناً اس پر جنگی جرائم سے متعلق سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔‘
وولکر ترک نے یہ بھی کہا کہ وہ موجودہ صورت حال پر بہت فکرمند ہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر اس امر کی نشاندہی کی کہ حوثیوں نے اقوام متحدہ کے 71 کارکنوں کو حراست میں رکھا ہوا ہے، جن میں سے آٹھ کا تعلق خود ان کے دفتر سے ہے اور ان میں سے کئی برسوں سے قید ہیں۔
انہوں نے گرفتاریوں کو اقوام متحدہ کے عملے کو حاصل استحقاق اور استثنیٰ کی ’سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات قطعاً قابل قبول نہیں ہیں۔
ان کے مطابق ’کارکنوں کو انتہائی برے حالات میں رکھا گیا ہے اور بغیر کسی شرط کے فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔‘
وولکر ترک نے رواں ماہ کے اوائل میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حوثیوں کے حملوں کی بھی مذمت کی تھی جن کے نتیجے میں سعودی شہریوں اور غیرملکیوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں اور کافی لوگ زخمی بھی ہوئے تھے۔
انہوں نے ان حملوں کی سنجیدہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ان کے ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرایا جائے۔
وولکر ترک نے فلسطین اور لبنان کی صورت حال پر بھی تشویش ظاہر کی (فوٹو: اے ایف پی)
ان کا یہ کہنا تھا کہ ’بین الاقوامی قوانین کے تحت عام شہریوں اور بنیادی شہری ڈھانچے پر حملے ممنوع ہیں۔‘
پانچ اکتوبر تک مملکت کے پانچ ہوائی اڈوں پر حوثیوں کی جانب سے حملے ہو چکے ہیں جن میں ریاض کا شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی شامل ہے۔ ان کے نتیجے میں کم سے کم 22 افراد ہلاک اور 350 زخمی سے زائد زخمی ہوئے۔
وولکر ترک نے اسرائیل کے حوالے سے بھی خیالات کا اظہار کیا اور نئی حکومت بنانے والے اتحاد سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ کی موجودگی پالیسی کو برقرار نہ رکھے اور عالمی قوانین کا احترام کرے۔
ان کے مطابق ’اسرائیل کی موجودہ کارروائیوں سے لگتا ہے جیسے وہ خود کو عالمی قوانین سے بالا تر سمجھتا ہے، امید ہے کہ نئی حکومت پالیسی میں تبدیلی لائے گی اور عالمی قوانین کی پابندی کرے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان کے دفاتر غرہ، مغربی کنارے، لبنان اور شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھ رہا ہے اور وہاں ہونے والے واقعات کی تفصیل دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔
وولکر ترک نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا اقوام متحدہ نے حماس کے اقدامات پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ 7 اکتوبر کے حملوں کی بارہا مذمت کر چکے ہیں اور ان کا دفتر حماس، فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی حکام کے اقدامات پر نظر رکھتا ہے۔
وولکر ترک نے اسرائیل کی نئی حکومت سے جنگی پالیسی جاری نہ رکھنے کا مطالبہ بھی کیا (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ماورئے عدالت قتل کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔
وولکر ترک کے مطابق غزہ میں فلسطینی اس وقت علاقے کے 30 فیصد سے بھی کم حصے تک محدود ہیں اور انہیں انسانی فورسز کی جانب سے جان سے مارنے کے خطرات درپیش ہیں۔
انہوں نے حماس سمیت کسی بھی فریق کی جانب سے فلسطینیوں کو دھمکانے یا ان کے خلاف تشدد پر بھی تشویش ظاہر کی۔
لبنان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جنوبی لبنان سے بے گھر ہونے والے افراد نے انہیں بتایا کہ اسرائیل کے قریب سرحدی علاقوں میں مکانات اور دیگر عمارتیں تباہ کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے جولائی کے آخر میں لبنان کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب کچھ لوگ اپنے گھروں کو واپس آئے تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کے مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ اس دورے کے دوران انہوں نے بیروت کے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا اور اسرائیلی حملوں کے متاثرین سے ملاقاتیں کیں۔
بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق اسرائیلی حملوں کے باعث لبنان میں تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار افراد اپنے ہی ملک میں بے گھر ہیں۔ جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں۔
وولکر ترک نے انہوں نے بتایا کہ ان کا دفتر جون میں لبنان بھیجی گئی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ تیار کر رہا ہے، جس میں تازہ ترین شواہد بھی شامل ہوں گے جو اگلے چند ہفتے میں جاری ہونے کی توقع ہے۔