Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لیبیا کی مشرقی حکومت نے ایرانی اور افغان شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی

2011 میں معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے لیبیا خانہ جنگی کا شکار رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
لیبیا کی مشرقی حکومت نے ایران اور افغانستان کے باشندوں کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جو کہ تمام زمینی، فضائی اور سمندری راستوں پر لاگو ہو گی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بدھ کو جاری ہونے والے بیان میں حکام کی وجہ دے پابندی کی وجہ نہیں بتائی۔
تاہم اتنا بتایا گیا ہے کہ وزارت داخلہ پابندی پر عمل کرے گی اور ایران اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کو بھی نکالا جائے گا جن کے پاس رہائش کے اجازت نامے موجود نہیں۔
اس سے قبل لیبیا کی حکومت نے جون میں چار دوسرے ممالک سوڈان، اریٹیریا، ایتھوپیا اور صومالیہ کے شہریوں پر بھی پابندی عائد کی تھی۔
2011 میں معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے لیبیا خانہ جنگی کا شکار رہا ہے۔
2014 سے ملک دو مشرقی اور مغربی حصوں میں تقسیم ہے جن کی حکومتیں بھی الگ الگ ہیں۔
اسامہ حماد کی قیادت میں مشرقی حکومت بن غازی میں قائم ہے اور اسے فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر کی حمایت حاصل ہے، جو مشرقی اور جنوبی لیبیا کے بڑے علاقوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔
دوسری جانب عبدالحمید الدبیبہ کی قیادت میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت دارالحکومت طرابلس میں قائم ہے۔
مشرقی حکومت کے حکام کا کہنا ہے کہ پابندی سے سفارتی اور قونصلر مشنز کے ارکان اور ان کے اہل خانہ کو استثنیٰ حاصل ہو گا جبکہ طبی اور تعلیمی شعبوں میں کام کرنے والے افراد کو بھی اجازت نامہ ہونے کی صورت میں استثنیٰ دیا جائے گا۔
جون میں اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، لیبیا میں نو لاکھ سے زائد تارکین وطن مقیم ہیں اور یہ معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ایک ایسے راستے کے طور پر بھی سامنے آیا ہے جس کے ذریعے لیبیا اور کئی دوسرے ممالک کے تارکین یورپ جاتے ہیں۔

 

شیئر: