Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایپل کے پہلے ٹچ سکرین میک بک پرو میں خاص کیا ہے؟

ایپل نے بدھ کو اپنا پہلا ٹچ سکرین میک بک پرو متعارف کرا دیا، جو 6 نومبر سے فروخت کے لیے دستیاب ہوگا۔(فوٹو:ایپل)
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے بدھ کو اپنا پہلا ٹچ سکرین میک بک پرو متعارف کرا دیا ہے، جس کے ذریعے صارفین لیپ ٹاپ کی سکرین پر براہ راست مختلف کام کر سکیں گے۔ یہ نیا لیپ ٹاپ 6 نومبر سے فروخت کے لیے دستیاب ہوگا۔
سی این این کے مطابق میک بک پرو 14 اور 16 انچ کے ماڈلز میں پیش کیا جائے گا، جن میں ایپل کی ایم 5 پرو یا ایم 5 میکس چِپس استعمال کی گئی ہیں۔ 14 انچ ماڈل کی قیمت 2 ہزار 899 ڈالر جبکہ 16 انچ ماڈل کی قیمت 3 ہزار 399 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
کمپنی نے یہ لیپ ٹاپ تخلیقی شعبوں سے وابستہ افراد اور ایپ ڈویلپرز کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا ہے۔ اس کی ٹچ سکرین پر صارفین پریزنٹیشنز میں سلائیڈز منتقل کرنے، گرافک ڈیزائن کے خاکے بنانے اور ورچوئل موسیقی کے آلات استعمال کرنے جیسے کام کر سکیں گے۔ ایپ ڈویلپرز بھی اپنی تیار کردہ ایپس کو براہ راست سکرین پر آزما سکیں گے۔
ایپل کے مطابق بہت سی موجودہ ایپس بھی ٹچ سکرین کے ساتھ کام کریں گی، کیونکہ کمپیوٹر کا سافٹ ویئر سکرین کو چھونے کو کلک کے طور پر تصور کرے گا۔ صارفین ٹچ کے ساتھ کی بورڈ اور ٹریک پیڈ بھی استعمال کر سکیں گے۔
نئے میک بک پرو میں آئی فون کا ڈائنامک آئی لینڈ بھی شامل کیا گیا ہے۔ سکرین کے اوپری حصے میں موجود یہ کیپسیول نما حصہ اہم معلومات اور اپ ڈیٹس دکھاتا ہے اور فرنٹ کیمرے کے لیے بھی جگہ فراہم کرتا ہے۔
اس کے ڈسپلے کی زیادہ سے زیادہ روشنی کی سطح ٹچ سکرین کے بغیر آنے والے ماڈلز سے زیادہ ہے، جبکہ اس میں ایڈوب آر جی بی کلر سپیس بھی شامل ہے، جو گرافک ڈیزائن اور فوٹو گرافی جیسے کاموں میں رنگوں کی درستگی کے لیے اہم ہے۔

ایپل نے ٹچ سینسر کو ڈسپلے کے اندر شامل کیا ہے، نہ کہ سکرین پر الگ تہہ کے طور پر لگایا ہے۔(فوٹو:رائٹرز)

ایپل نے ٹچ سینسر کو ڈسپلے کے اندر شامل کیا ہے، نہ کہ سکرین پر الگ تہہ کے طور پر لگایا ہے۔ کمپنی کے مطابق، اس ڈیزائن سے سکرین پر ٹچ اور سکرولنگ کے دوران ردِعمل کا وقت کم ہوگا، جس سے استعمال کا تجربہ مزید تیز اور ہموار ہو جائے گا۔
ٹچ سکرین والے لیپ ٹاپ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے مارکیٹ میں موجود ہیں۔ مائیکروسافٹ نے 2012 میں ونڈوز 8 متعارف کرا کے اس ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی کوشش کی تھی۔ اس آپریٹنگ سسٹم میں فون اور ٹیبلٹس سے مشابہ بڑے، ٹائل نما آئیکنز شامل کیے گئے، تاہم استعمال میں دشواری کے باعث اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
ابتدائی ٹچ سکرین لیپ ٹاپ بھاری، مہنگے اور ٹیبلٹ کے طور پر استعمال کرنے میں غیر آرام دہ تھے۔ وقت کے ساتھ سستے پرزوں، ہلکے ڈیزائن اور ونڈوز میں بہتری نے ان آلات کو زیادہ قابل استعمال بنا دیا۔ اب ڈیل اور لینووو سمیت کئی بڑی کمپنیاں بھی ٹچ سکرین والے لیپ ٹاپ فروخت کرتی ہیں۔

کمپنی نے 2019 میں آئی پیڈ کے سافٹ ویئر کو بہتر بنایا، جس سے ایک وقت میں متعدد ایپس استعمال کرنا آسان ہوا۔(فوٹو:رائٹرز)

ایپل کے اس وقت کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک، جو اب کمپنی کے ایگزیکٹو چیئرمین ہیں، نے 2013 میں حریف کمپنیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کمپیوٹرز کو ٹیبلٹس اور ٹیبلٹس کو کمپیوٹرز میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا تھا کہ ’کون جانتا ہے کہ وہ آگے کیا کریں گے؟‘
بعد میں ایپل نے بھی اپنی مصنوعات میں تبدیلیاں کیں۔ کمپنی نے 2019 میں آئی پیڈ کے سافٹ ویئر کو بہتر بنایا، جس سے ایک وقت میں متعدد ایپس استعمال کرنا آسان ہوا۔ میک کے سافٹ ویئر میں بھی آئی فون سے ملتے جلتے فیچرز شامل کیے گئے، جن میں کنٹرول پینل اور شفاف ڈیزائن والے لیکوئڈ گلاس آئیکنز شامل ہیں۔
اس کے باوجود ٹچ سکرین لیپ ٹاپس کا مارکیٹ میں حصہ محدود ہے۔ انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن (آئی ڈی سی) کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں فروخت ہونے والے لیپ ٹاپس میں ٹچ سکرین ماڈلز کا حصہ صرف 16.3 فیصد تھا۔
آئی ڈی سی کے گروپ نائب صدر ریان ریتھ کے مطابق کاروباری اداروں میں ان لیپ ٹاپس کی مقبولیت کم ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ بہت سے ملازمین دفتر میں اپنے کمپیوٹر کو الگ مانیٹر سے منسلک کرکے کام کرتے ہیں۔

کمپنی نے رواں ماہ کے آغاز میں ’ہوم ویو‘ نامی سمارٹ ہوم ہب بھی متعارف کرایا۔(فوٹو:رائٹرز)

ایپل اس سے پہلے بھی میک بک پرو میں ٹچ ٹیکنالوجی آزما چکی ہے۔ کمپنی نے 2016 میں کی بورڈ کے اوپر ٹچ بار متعارف کرائی تھی، جس سے مختلف ایپس کے کنٹرولز اور شارٹ کٹس تک رسائی حاصل کی جا سکتی تھی۔ تاہم یہ فیچر زیادہ مقبول نہ ہو سکا، کیونکہ صارفین کی بڑی تعداد نے اضافی قیمت کے مقابلے میں اس کی افادیت کو محدود سمجھا۔
ایپل ماضی میں ایم پی تھری پلیئرز، ٹیبلٹس اور سمارٹ واچز متعارف کرانے والی پہلی کمپنی نہیں تھی، لیکن اس نے آسان استعمال اور بہتر ڈیزائن کے ذریعے ان مصنوعات کو مقبول بنایا۔ اب ٹچ سکرین میک بک پرو کے ذریعے کمپنی لیپ ٹاپ استعمال کرنے کے انداز میں تبدیلی لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
کمپنی نے رواں ماہ کے آغاز میں ’ہوم ویو‘ نامی سمارٹ ہوم ہب بھی متعارف کرایا، جس کے ذریعے وہ اس شعبے میں ایمازون کی بالادستی کو چیلنج کرنا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون بھی گزشتہ ہفتے فروخت کے لیے پیش کیا گیا، حالانکہ سام سنگ سمیت حریف کمپنیاں اس ٹیکنالوجی پر پہلے ہی کام کر رہی ہیں۔

نئی مصنوعات کی یہ پیش رفت کمپنی کے نئے چیف ایگزیکٹو جان ٹرنَس کے دور کے ابتدائی مہینوں میں سامنے آئی ہے۔(فوٹو:رائٹرز)

نئی مصنوعات کی یہ پیش رفت کمپنی کے نئے چیف ایگزیکٹو جان ٹرنَس کے دور کے ابتدائی مہینوں میں سامنے آئی ہے۔ ہارڈویئر کے شعبے میں تجربہ رکھنے والے ٹرنَس کے لیے یہ جانچنے کا موقع ہے کہ آیا ایپل صارفین کی ضروریات کے مطابق نئی کامیاب مصنوعات متعارف کرا سکتی ہے۔ ان کے پیش رو ٹم کک آپریشنز کے شعبے میں اپنے تجربے کے لیے جانے جاتے ہیں۔
سرمایہ کار اگلے ہفتے ایپل کی آمدنی سے متعلق کانفرنس کال میں نئی مصنوعات کے بارے میں صارفین کے ردعمل کا جائزہ لیں گے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں اہم ہے جب فولڈ ایبل آئی فون ڈیو کی سکرین ٹوٹنے سے متعلق رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔
تجزیہ کار فرانسسکو جیرونیمو کے مطابق ایپل کی ٹچ سکرین لیپ ٹاپ مارکیٹ میں آمد سے پی سی کی صنعت میں فوری طور پر بڑی تبدیلی آنے کا امکان نہیں، تاہم اس سے ٹچ سکرین والے لیپ ٹاپس کی اہمیت اور حیثیت بدل سکتی ہے۔

شیئر: