ریاض: باہم جڑی ہوئی تنزانیہ کی دو بچیوں کی سرجری
جمعرات 29 اکتوبر 2026 21:39
آپریشن میں کنسلٹنٹس سمیت 44 افراد پر مشتمل ٹیم نے حصہ لیا ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کی میڈیکل اور سرجیکل ٹیم نے جمعرات کو ریاض کے کنگ عبداللہ سپیشلسٹ چلڈرنز ہسپتال میں تنزانیہ کی باہم جڑی ہوئی بچیوں کی سرجری کی ہے۔ ان بچیوں کی عمر دو سال دو ماہ ہے۔
آپریشن میں کنسلٹنٹس، تیکنیکی عملے اور نرسنگ سٹاف سمیت 44 افراد پر مشتمل ٹیم نے حصہ لیا۔ اس میں اینستھیزیا، پیڈیاٹرک نیوروسرجری، یورولوجی اور پلاسٹک سرجری کے ماہرین شامل تھے۔ ہر مرحلے پر درستگی اور سیفٹی کی اعلی ترین سطح کو یقینی بنایا گیا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق آپریشن نو مراحل میں تقریبا 15 گھنٹے تک جاری رہا۔
کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کے سپروائزر جنرل، میڈیکل اور سرجیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے بتایا یہ بچیاں 27 جنوری کو مملکت پہنچی تھیں۔ ہسپتال میں داخلے کے بعد طبی ٹیم نے سرجری کا طریقہ کار طے کرنے کے لیے تفصیلی معائنے اور ضروری ٹیسٹ کیے۔
دونوں بچیاں پیلوس اور کولہے کے حصے سے جڑی ہوئی تھیں جبکہ ان کے چار نچلے اعضا مشترک تھے۔
انہوں نے مزید بتایا تنزانیہ سے تعلق رکھنے والے باہم جڑے ہوئے بچوں کی علیحدگی کا یہ چوتھا آپریشن ہے جبکہ سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کے تحت کیا جانے والا یہ 75 واں کیس ہے۔
1990 سے اب تک 35 برس کے زائد عرصے میں سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام نے پانچ براعظموں کے 28 ممالک سے تعلق رکھنے والے 159 جڑواں بچوں کے کیسز کا جائزہ لیا ہے جو سعودی عرب کے انسانی اور طبی کام میں قائدانہ کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
