Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’والدین خوشی سے سرشار‘: ریاض میں باہم جڑی ہوئی مراکشی بچیوں کی کامیاب سرجری

آپریشن چھ مراحل میں چھ گھنٹے کے دوران کامیابی سے مکمل کیا گیا۔ (فوٹو: ایس پی اے)
 سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کی میڈیکل اور سرجیکل ٹیم نے جمعرات کو ریاض کے کنگ عبداللہ سپیشلسٹ چلڈرنز ہسپتال میں 13 ماہ کی مراکشی باہم جڑی ہوئی بچیوں سجیٰ اور ضحیٰ کو کامیابی سے الگ کر دیا۔
ایس پی اے کے مطابق کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کے سپروائزر جنرل، میڈیکل اور سرجیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے بتایا ’آپریشن چھ مراحل میں چھ گھنٹے کے دوران کامیابی سے مکمل کیا گیا۔‘
 اینستھیزیالوجی، پیڈیاٹرک، سرجری، پلاسٹک سرجری اور دیگر معاون شعبوں سے تعلق رکھنے والے 23 کنسلٹنٹس، ماہرین، نرسوں اور تکنیکی عملے پر مشتمل ٹیم نے حصہ لیا۔ ہر مرحلے پر درستگی اور سیفٹی کی اعلی ترین سطح کو یقینی بنایا گیا۔
کامیاب سرجری پر والدین خوشی کے سرشار تھے۔ شدت جذبات سے آنکھیں نم ہو گئیں۔انہوں نے فراہم کی جانے والی سہولتوں اور طبی نگہداشت پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور طبی ٹیم کی کوششوں کو سراہا۔
یاد رہے کہ مراکش کی دونوں جڑواں بچیاں 24 اپریل 2026 کو سعودی عرب پہنچی تھیں۔

ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ نے بتایا دونوں بچیاں سینے اور پیٹ کے حصے سے جڑی ہوئی تھیں جبکہ ان میں دل، جگر اور آنتوں کو ڈھانپنے والی جھلیاں بھی مشترک تھیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ مراکش سے تعلق رکھنے والے باہم جڑے ہوئے بچوں کی علیحدگی کا چوتھا آپریشن ہے جبکہ سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کے تحت کیا جانے والا یہ 73 واں کیس ہے۔
 1990 سے اب تک 35 برس کے زائد عرصے میں سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام نے پانچ براعظموں کے 28 ممالک سے تعلق رکھنے والے 159 جڑواں بچوں کے کیسز کا جائزہ لیا ہے جو سعودی عرب کے انسانی اور طبی کام میں قائدانہ کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

 

شیئر: