Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مولانا فضل الرحمان اور حکومت میں کشیدگی، جے یو آئی کے سربراہ کو سی ڈی اے کا نوٹس جاری

پاکستان کی وفاقی حکومت اور اپوزیشن جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے درمیان کشیدگی ایک نئی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
جمعے کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کو ایک نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
سی ڈی اے نے یہ نوٹس کے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کے باہر مبینہ تجاوزات کے خلاف جاری کیا ہے۔ 
سی ڈی اے کی جانب سے جمعہ 30 اکتوبر کو جاری کیا گیا یہ نوٹس مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کے باہر چسپاں کردیا گیا ہے۔ 
نوٹس میں سی ڈی اے نے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کے باہر سے سکیورٹی گارڈز کا کیبن ہٹانے کا حکم دے دیا ہے۔ 
سی ڈی اے نے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کے باہر لگے جنریٹر کو بھی ہٹانے کی ہدایت کی ہے جبکہ رہائش گاہ کے اندر بنے اضافی کچن کو بھی بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ رہائش گاہ کے باہر تجاوزات 15 روز کے اندر ختم کی جائیں ورنہ سی ڈی اے خود کارروائی کرے گا۔ 
سی ڈی اے نے امان اللہ ولد محمد یونس کو عمارت کے مالک کے طور پر نوٹس جاری کیا ہے۔ 
یاد رہے کہ 18 مارچ 2019 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں بھی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کے باہر سے تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔
اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی ترجمان اسلم غوری نے سی ڈی اے کی جانب سے نوٹس موصول ہونے کی تصدیق کی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مولانا فضل الرحمان یہاں طویل عرصے سے مقیم ہیں، اسلام آباد کے اس علاقے کے ہر بنگلے اور کوٹھی کے باہر سکیورٹی گارڈز کے لیے کیبن اور دیگر انتظامات موجود ہیں، تاہم انہیں پہلے کبھی ایسا نوٹس موصول نہیں ہوا۔
ترجمان جے یو آئی نے اس قدم کو سیاسی انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ وہی گھر ہے جہاں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی پہلے خود چکر لگایا کرتے تھے، مگر اب انہوں نے ہی ہمیں ایسا نوٹس بھجوایا ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ایسے اقدامات سے گھبرانے والے نہیں ہیں اور اس نوعیت کے نوٹسز سے ان کے نکتہ نظر اور موقف پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

شیئر: