Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیش لین دین کی حد میں اضافہ، اب کیا کچھ منی لانڈرنگ تصور ہو گا؟

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی صدرات میں اینٹی منی لانڈرنگ اور کاؤنٹرنگ فنانسنگ آف ٹیررازم کی قومی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہوا (فائل فوٹو: اے پی پی)
پاکستان کی وفاقی حکومت نے ایک جانب بینکوں میں نقد رقم کے لین دین پر عائد قوانین میں نرمی کرتے ہوئے لازمی کیش رپورٹنگ کی حد بڑھا دی ہے، تو دوسری جانب بحری قزاقی کو منی لانڈرنگ کا سنگین جرم قرار دینے اور ڈیجیٹل اثاثوں کو باقاعدہ قانونی دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ تمام اہم فیصلے منگل کو منعقدہ اینٹی منی لانڈرنگ اور کاؤنٹرنگ فنانسنگ آف ٹیررازم کی قومی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کی۔
وفاقی وزارتِ خزانہ کے مطابق حکومت کی جانب سے یہ فیصلے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط، پاکستان کے گورننس اینڈ کرپشن ایکشن پلان اور قومی اینٹی منی لانڈرنگ فریم ورک کو مضبوط بنانے کے عزم کے تحت کیے گئے ہیں۔ 
اِن اقدامات کا مقصد جہاں ایک طرف قانونی طریقے سے کاروبار کرنے والے شہریوں اور تاجروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے، تو دوسری طرف مالیاتی جرائم، سمندری ڈکیتی اور غیر قانونی ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کا راستہ روکنا بھی ہے۔
کیش ٹرانزیکشن کی حد میں اضافہ
اینٹی منی لانڈرنگ اور کاؤنٹرنگ فنانسنگ آف ٹیررازم کی قومی ایگزیکٹو کمیٹی نے بینکوں کے لیے نقد رقم کی لازمی رپورٹنگ یعنی کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹ (سی ٹی آر) کی حد 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دی ہے۔ 
اُردو نیوز کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق، اِس فیصلے کے بعد اب بینک صرف 30 لاکھ روپے یا اس سے زائد کے روزانہ کیش لین دین (جمع کروانے یا نکلوانے) کی رپورٹ سٹیٹ بینک کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو بھیجنے کے پابند ہوں گے۔ 
اِس اقدام کا مقصد قانونی طریقے سے کاروبار کرنے والے تاجروں اور عام شہریوں کو بے جا کاغذی کارروائی اور غیر ضروری نگرانی سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
بحری قزاقی پر سخت قوانین
دوسری جانب وفاقی وزیرِ خزانہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پاکستان میری ٹائم زونز ایکٹ 2023 کی دفعہ 28 کو اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے شیڈول اول میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ 

پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کو اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترمیم کے بعد جرمانے عائد کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہو گئے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اِس کے تحت سمندروں میں غیر قانونی اقدامات، تشدد اور قزاقی کے ذریعے حاصل کردہ رقم کو اب باقاعدہ منی لانڈرنگ کا سنگین جرم تسلیم کیا جائے گا۔ 
اِس جرم کی خلاف ورزی پر 10 سال تک قید، اڑھائی  کروڑ روپے تک کے بھاری جرمانوں اور جائیدادوں کی ضبطی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ڈیجیٹل اور ورچوئل اثاثوں پر کنٹرول
کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل اثاثوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیشِ نظر پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کو اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے شیڈول چہارم میں باضابطہ طور پر شامل کر لیا گیا ہے۔
اِس فیصلے کے بعد اتھارٹی کو مالیاتی اور انتظامی جرمانے عائد کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہو گئے ہیں، جس کے تحت صارفین کا ریکارڈ نہ رکھنے یا ڈیٹا رپورٹنگ میں غفلت برتنے والی ورچوئل کمپنیوں اور اُن کی اعلیٰ انتظامیہ کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکے گی۔
مالیاتی پالیسی میں تبدیلی کی وجوہات کیا ہیں؟
پاکستان کے نامور ماہرِ معیشت ڈاکٹر اکرام الحق کے مطابق بینکوں کے لیے کیش رپورٹنگ کی حد میں اضافے کے حق میں سب سے بڑی دلیل مہنگائی اور روپے کی قدر میں شدید کمی ہے۔
اُنہوں نے اُردو نیوز کو بتایا کہ 20 لاکھ روپے کی حد سالہا سال پہلے طے کی گئی تھی، جس کی حقیقی قدر کم ہونے کے باعث اب روزمرہ کی تجارت، جائیداد اور کاروباری لین دین پر بھی کیش ٹرانزیکشن رپورٹس جاری ہو جاتی تھیں۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ ’اِس کی وجہ سے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کم خطرے والی رپورٹس کے انبار تلے دب جاتا تھا اور اصل کارآمد معلومات کا سراغ لگانا دشوار ہو جاتا تھا، جبکہ بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کا قیمتی وقت اور وسائل بھی اِس میکینیکل فائلنگ پر ضائع ہو رہے تھے۔‘

کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹ (سی ٹی آر) کی حد 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دی گئی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اُن کے خیال میں  ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کے تحت مشکوک لین دین کی رپورٹنگ پر کوئی حد لاگو نہیں ہوتی، لہٰذا کیش کی حد بڑھانے سے مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ذمہ داری پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ 
ڈاکٹر اکرام الحق کے مطابق، ناقدین کے نزدیک نقد معیشت میں حد بڑھانے سے بڑے پیمانے پر کیش کی نقل و حرکت کاغذی ریکارڈ سے باہر ہو جائے گی اور رقم کو مختلف حصوں میں بانٹ کر رپورٹنگ سے بچنے کا عمل آسان ہو جائے گا۔ 
تاہم، اِس کے جوابی دفاع میں ڈاکٹر اکرام الحق کا کہنا ہے کہ نقد معیشت میں صرف کیش رپورٹس سے فائدے کی بجائے کاغذی بوجھ ہی بڑھتا ہے، جبکہ اصل اور موثر کنٹرول مشکوک لین دین کی رپورٹنگ (ایس ٹی آرز)، صارف کی سخت جانچ پڑتال اور نادرا و ایف بی آر کے ڈیٹا کے باہمی تقابل سے ہی ممکن ہے۔

 

شیئر: