Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کا دفاع کریں گے لیکن یمن کی ’اندرونی جنگ‘ سے الگ رہیں گے: پاکستان فوج

پاکستان کی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد سعودی عرب کے دفاع کے لیے پوری طرح پرعزم ہے تاہم انہوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان ’اندرونی یمنی تنازع‘ کا حصہ نہیں ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان کا یہ بیان ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے شہروں، ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر گزشتہ چند ہفتوں سے جاری حملوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
یہ حملے رواں ہفتے بھی جاری رہے اور یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحادی فورسز نے جمعے کے روز بتایا کہ انہوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقے کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل اور ریاض کے اوپر ایک ڈرون کو فضا ہی میں تباہ کر دیا ہے۔
پاکستان نے ستمبر 2025 میں سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جبکہ رواں سال اگست میں ایک سہ فریقی معاہدہ بھی طے پایا تھا جس میں ترکیہ بھی شامل ہے۔ ’مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ کے تحت ان تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف بھی جارحیت کو ان تمام کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعے کو خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا ’ہم اپنے معاہدوں کی پاسداری، اپنے باہمی تعلقات اور اپنی خواہشات کے مطابق سعودی عرب اور حرمین شریفین کے دفاع کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس معاہدے کے تحت مزید پاکستانی افواج سعودی عرب بھیجی جا رہی ہیں، تو لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے کہا کہ اس کا انحصار صورتحال اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے فیصلے پر ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا ’لہٰذا وہاں ہمارا کردار صرف مملکتِ سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہے۔ ہم یمن کے اس اندرونی تنازع کا ہرگز حصہ نہیں ہیں۔‘
ان کا اشارہ یمن میں حوثی ملیشیا اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی وفادار فورسز کے درمیان شدید ہوتی ہوئی جنگ کی طرف تھا، خاص طور پر تعز اور ملک کے مغربی ساحلی علاقوں کے اطراف میں۔
بدھ کو جاری ہونے والے اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اگست سے اب تک اس جنگ کے باعث یمن میں 2 لاکھ 81 ہزار سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ تعز میں انسانی صورتحال شدید ابتر ہو چکی ہے، جہاں حوثی پابندیوں اور جنگ کی وجہ سے اہم سپلائی روٹس بلاک ہو چکے ہیں، جس سے خوراک، ایندھن، پانی اور طبی سامان تک رسائی شدید محدود ہو گئی ہے۔
ایک علیحدہ گفتگو میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاک فوج ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے حوالے سے ’محتاط حد تک پرامید‘ ہے جو کہ پاکستانی فوج کے سربراہ کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ساتھ تہران کے دورے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر جو گزشتہ 8 ماہ سے جاری ایران جنگ کی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں پاکستان کے بنیادی ثالث ہیں، اس ماہ دو بار تہران کا دورہ کر چکے ہیں، جن میں سے حالیہ دورہ پیر کے روز سعودی اور ترک حکام کے ہمراہ تھا۔
جب لیفٹیننٹ جنرل چوہدری سے پوچھا گیا کہ کیا یہ دورے مثبت پیش رفت کی علامت ہیں تو انہوں نے کہا ’اگر کوئی مثبت پہلو نہ ہوتا تو فیلڈ مارشل دو بار تہران کیوں جاتے؟ تو جی ہاں، یقیناً۔ تاہم ہم اس کے لیے جو لفظ استعمال کریں گے وہ ہمیشہ ’محتاط امید‘ کا ہی ہوگا۔‘
پیر کو تہران میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم کالن بھی موجود تھے۔
ترجمان پاک فوج نے اس بات کی تفصیل بتانے سے گریز کیا کہ وہاں کیا بات چیت ہوئی یا آیا امریکہ نے اس دورے کی حمایت کی تھی یا نہیں۔ انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر مزید کہا کہ خطے میں اب بھی ’طاقتور بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر اور مخالفین‘ موجود ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہ تنازع ان کے مفاد میں ہے۔
پاکستان رواں سال فروری میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد سے دونوں فریقین کے درمیان سرگرم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے رواں سال اپریل میں دونوں فریقوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی کی تھی اور جون میں ایک عبوری امن معاہدہ کرایا تھا۔
تاہم، جولائی میں یہ معاہدہ اس وقت ختم ہو گیا جب امریکہ نے ایران پر آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر فائرنگ کا الزام عائد کیا، جس کی تہران نے تردید کی تھی۔ خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور امریکہ کی جانب سے ایران پر نئے حملے کے خطرات دوبارہ جنم لے رہے ہیں۔

شیئر: