پاکستان ایران، امریکہ کے درمیان ثالثی کے حوالے سے ’محتاط طور پر پُرامید‘ ہے: ترجمان پاکستانی فوج
جمعہ 30 اکتوبر 2026 22:49
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کے حوالے سے محتاط طور پر پُرامید ہے۔
پاکستانی فوج کے ترجمان جمعے کو برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران اور امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدہ صورتِ حال کے تناظر میں اظہارِ خیال کر رہے تھے۔
ترجمان پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ ’اگر فیلڈ مارشل عاصم منیر دو مرتبہ ایران کا دورہ کر چکے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ان کوششوں میں کچھ نہ کچھ مُثبت پیش رفت ضُرور ہوئی ہے۔‘
واضح رہے کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر رواں ماہ اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ دو مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں اور اُن کے حالیہ دورے کے بعد پاکستانی فوج کے ترجمان کا یہ پہلا انٹرویو ہے۔
انہوں نے اس حوالے سے تازہ ترین دورہ پیر کو کیا تھا، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام بھی اُن کے ہمراہ تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا انٹرویو میں مزید کہنا تھا کہ ’ہماری رائے میں اس معاملے پر ہمیشہ محتاط اُمید ہی رکھنی چاہیے۔‘
ترجمان پاکستانی فوج کے مطابق ’اس عمل میں اب بھی کچھ طاقتور عناصر رُکاوٹیں ڈال رہے ہیں، جو سمجھتے ہیں کہ تنازع جاری رہنے سے اُن کے مفادات پورے ہوتے ہیں‘، تاہم انہوں نے اِن عناصر کے نام بتانے سے گریز کیا۔
راولپنڈی میں انٹرویو کے دوران احمد شریف چودھری نے یہ بتانے سے بھی انکار کیا کہ تہران میں ہونے والی ملاقاتوں میں کن امور پر بات چیت ہوئی اور آیا امریکہ نے اس دورے کی حمایت کی تھی یا نہیں۔
سعودی عرب میں معاہدے کے تحت مزید پاکستانی فوجی بھیجنے سے متعلق سوال پر پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ اِس کا انحصار حالات اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے فیصلے پر ہوگا۔
اُن کا ایک بار پھر یہ کہنا تھا کہ ’پاکستان، سعودی عرب کے دفاع اور مُقدس مقامات مکہ اور مدینہ کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔‘
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے واضح کیا کہ ’پاکستان یمن کے تنازعے کا حصہ نہیں ہے کیونکہ یہ اُس ملک کے اندرونی فریقین کے درمیان ایک تنازع ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’سعودی عرب اور ایران نواز حوثی گروپ کے درمیان لڑائی ایران جنگ کے باعث دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے، جس سے خطے میں ایک وسیع تر جنگ کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔‘
