امپورٹڈ گاڑیوں پر پانچ سالہ حد ختم، کیا اب پاکستان میں گاڑیاں سستی ہوں گی؟
امپورٹڈ گاڑیوں پر پانچ سالہ حد ختم، کیا اب پاکستان میں گاڑیاں سستی ہوں گی؟
ہفتہ 31 اکتوبر 2026 7:35
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
اس پالیسی کا بنیادی مقصد استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں متعلقہ قانونی و فنی ضوابط کے تابع رکھنا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی وفاقی حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد سے متعلق پالیسی میں اہم تبدیلی لاتے ہوئے ان کی درآمد پر عائد پانچ سالہ عمر کی حد باضابطہ طور پر ختم کر دی ہے۔
وزارتِ تجارت کے آفس میمورنڈم کے مطابق یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کے سابقہ فیصلوں اور نیشنل ٹیرف پالیسی (2026-27) کے تحت کیا گیا ہے۔
اس اقدام کے تحت یکم جولائی 2026 سے استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ پر پانچ سال سے زیادہ پرانی ہونے کی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔
وفاقی حکومت کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد امپورٹ پالیسی میں پائی جانے والی عدم یقینیت کا خاتمہ کرنا اور گاڑیوں کی درآمد کو حکومت کے طے کردہ جدید ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات کے تابع بنانا ہے۔
وزارتِ تجارت آفس میمورنڈم کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی 23 اکتوبر کی درخواست کے جواب میں وضاحت کی گئی ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد پر عائد پانچ سالہ عمر کی پابندی یکم جولائی 2026 سے ختم کر دی گئی ہے۔
میمورنڈم میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ اور کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے منظور شدہ فیصلوں کی روشنی میں کیا گیا ہے، جس کے بعد 30 جون 2026 کے بعد سے گاڑیوں کی تجارتی درآمد پر پانچ سالہ حد کی شرط برقرار نہیں رہے گی۔
اس پالیسی کا بنیادی مقصد استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں متعلقہ قانونی و فنی ضوابط کے تابع رکھنا ہے۔
’شرائط پر عمل درآمد اب بھی ضروری ہے‘
پالیسی کے تحت گاڑیوں کی درآمد پر سے عمر کی حد تو ختم کی گئی ہے لیکن اسے وزارتِ صنعت و پیداوار اور انجینیئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے طے کردہ ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات کی پاسداری سے مشروط کیا گیا ہے، تاکہ تجارتی درآمدات دیگر تمام متعلقہ پالیسی تقاضوں اور ملکی معیارات کے مطابق انجام پا سکیں۔
میاں شعیب کے مطابق حکومت کے اس اقدام سے آٹو مارکیٹ پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے (فوٹو: اے ایف پی)
’عمر کی کوئی نئی یا متبادل حد کا اعلان نہیں کیا گیا‘
اس فیصلے سے قبل تجارتی درآمد کنندگان صرف ایسی استعمال شدہ گاڑیاں لانے کے اہل تھے جو پانچ سال سے زیادہ پرانی نہ ہوں، تاہم رواں برس جون میں حکومت نے اس پابندی کو ختم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کی اب باضابطہ پاسداری کر دی گئی ہے۔
اگرچہ حکومت نے باضابطہ طور پر پانچ سالہ عمر کی پابندی ختم کر دی ہے، تاہم ابھی استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کے لیے عمر کی کوئی نئی حد مقرر نہیں کی گئی۔
معاشی و صنعتی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کے اس فیصلے کے آٹو انڈسٹری پر دوہرے اثرات مرتب ہوں گے جہاں ایک طرف عام صارف کو فلاح ملے گی تو دوسری طرف کچھ معاشی چیلنجز بھی درپیش ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر عمر کی حد کا خاتمہ خریداروں کو کم قیمت میں معیاری اور جدید حفاظتی سہولیات سے آراستہ گاڑیاں فراہم کرے گا، جس سے مقامی اسمبلرز پر بھی معیار بہتر بنانے کا دباؤ بڑھے گا۔
تاہم، دوسری جانب تجارتی بنیادوں پر گاڑیوں کی بڑے پیمانے پر امپورٹ سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور جاری کھاتے کے خسارے پر اضافی بوجھ پڑنے کا اندیشہ بھی موجود ہے، جس کے لیے حکومت کو درآمدی حجم اور زرمبادلہ کے اخراج کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔
پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری پر گہری نظر رکھنے والے ماہر میاں شعیب کے مطابق حکومت کے اس اقدام سے آٹو مارکیٹ پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
میاں شعیب کے مطابق پاکستانی صارفین گاڑیوں کو محض استعمال کی چیز کے بجائے ایک ’اثاثہ‘ سمجھتے ہیں (فوٹو: پاک ویلز)
میاں شعیب کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ پالیسی میں یہ تبدیلی 2019 میں سابق سیکریٹری تجارت سردار احمد نواز سکھیرا کے دور سے شروع ہونے والے ایک طویل سفر کا نتیجہ ہے، جو ستمبر 2026 میں سیکریٹری صنعت و پیداوار سیف انجم کے دور میں مکمل ہوا۔ ان کے مطابق اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈیلرز اور امپورٹرز کی مسلسل کوششیں بالآخر رنگ لائیں۔
قیمتوں میں استحکام
ان کے مطابق پاکستانی صارفین گاڑیوں کو محض استعمال کی چیز کے بجائے ایک ’اثاثہ‘ سمجھتے ہیں۔ چونکہ امپورٹڈ گاڑیاں باہر کے ممالک میں پہلے ہی قدر و قیمت کے اعتبار سے ڈیپریشییٹ (کم قیمت) ہو چکی ہوتی ہیں، اس لیے پاکستان میں ان کی قیمتیں مستحکم رہیں گی۔
معیار اور شفافیت
اُن کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے پری شپمنٹ انسپکشن اور حفاظتی معیارات کی شرط سے اب ایکسیڈنٹ شدہ یا ٹیمپرڈ میٹر والی گاڑیاں امپورٹ نہیں ہو سکیں گی۔
میاں شعیب کے مطابق اس فیصلے سے مارکیٹ میں صحت مند مقابلہ پیدا ہوگا، جس کے باعث مقامی و غیرملکی مینوفیکچررز (جاپانی و چائنیز) کو بقا کے لیے اپنی گاڑیوں کا معیار بہتر بنانا پڑے گا اور حتمی فائدہ عام خریدار کو ہوگا۔