Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بائینانس سے اربوں ڈالر کی تاریخی چوری، یہ ’ٹریڈر ٹریٹر‘ کون ہیں؟

امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی کے دوران ’بائینانس‘ سے چھ ارب ڈالر سے زائد کے اثاثے چرانے میں شمالی کوریا کا ہیکنگ گروہ ’ٹریڈر ٹریٹر‘ ملوث ہے۔
29 اکتوبر کا یہ حملہ پیانگ یانگ سے منسلک سائبر چوریوں کا تازہ ترین واقعہ ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا ایک انتہائی منظم سائبر فورس تیار کر چکا ہے جس سے حاصل ہونے والی رقم مبینہ طور پر اس کے ہتھیاروں کی تیاری اور ملٹری پروگرام کی مالی معاونت میں استعمال کی جاتی ہے۔
ایف بی آئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ رواں ہفتے ہونے والے اس حملے کا تعلق ’ٹریڈر ٹریٹر‘ نامی گروہ کی ’بدنیتی پر مبنی سائبر سرگرمیوں‘ سے ہے، یہ وہی کارندے ہیں جو گزشتہ سال بائی بِٹ (Bybit) سے 1.5 ارب ڈالر کے ہیک کے پیچھے بھی ملوث تھے۔
امریکی تحقیقاتی ادارے نے کرپٹو ایکسچینجز، بلاک چین اینالیٹکس کمپنیوں اور دیگر اداروں سے درخواست کی ہے کہ وہ مختلف نامزد ایڈریسز سے منسلک لین دین کو فوری طور پر روکیں تاکہ یہ بات یقینی بنائی جا سکے کہ اس رقم کو مانی لانڈرنگ کے ذریعے چھپایا نہ جا سکے۔
بیان کے مطابق ایف بی آئی کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ’ٹریڈر ٹریٹر‘ چوری شدہ اثاثوں کو بنیادی طور پر ’ایتھیریم‘ نامی کرپٹو کرنسی میں تبدیل کر رہا ہے۔
ایف بی آئی کو توقع ہے کہ یہ گروہ اب ان اثاثوں کو ڈی فائی اور ’انسٹنٹ سویپ سروسز‘ کے ذریعے آگے منتقل کرنے کی کوشش کرے گا۔
واضح رہے کہ جمعرات کو دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو ایکسچینج ’بائینانس‘ سے 6.3 ارب ڈالر مالیت کے بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل کرنسی چوری کر لی گئی تھی، جسے متعدد کرپٹو ماہرین نے شمالی کوریا کے ہیکنگ انداز کی واضح نشانی قرار دیا تھا۔
’ٹریڈر ٹریٹر‘ شمالی کوریا کے مشہور سائبر ہیکنگ نیٹ ورک ’لازارس گروہ‘ کا حصہ ہے۔ اس گروہ نے 2014 میں ہالی ووڈ کی فلم ’دی انٹرویو‘ کے ردِعمل میں ’سونی پکچرز‘ کا سسٹم ہیک کر کے عالمی شہرت حاصل کی تھی جس میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا مذاق اڑایا گیا تھا۔
سائبر فورس کی طاقت شمالی کوریا 1990 کی دہائی کے وسط سے اپنی سائبر صلاحیتوں کو بڑھانے پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
جنوبی کوریا کے انٹیلی جنس اداروں کے مطابق اس سائبر فورس میں 8400 سے زائد تربیت یافتہ افراد شامل ہیں جنہیں ملک کے بہترین اداروں سے چُن کر کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی کی خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔ ان سرگرمیوں کو پیانگ یانگ کا مرکزی انٹیلی جنس ادارہ کنٹرول کرتا ہے۔
یہ ہیکرز عام طور پر پرکشش ملازمتوں کی پیشکش کرنے والے ’ریکروٹرز‘ بن کر پیشہ ورانہ پلیٹ فارمز (جیسے لنکڈاِن) پر ملازمین سے رابطہ کرتے ہیں۔
یہ ملازمین کو فیک ٹیسٹ یا فائلوں کے نام پر وائرس پر مبنی سافٹ ویئر بھیجتے ہیں جس کے ڈاؤن لوڈ ہوتے ہی پورا سسٹم ہیک کر کے ڈیجیٹل اثاثے چوری کر لیے جاتے ہیں۔
کورین ہیکرز سے منسوب ماضی کی بڑی کارروائیاں
کورین ہیکرز کی جانب سے ماضی میں بھی کئی بڑی کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔ سنہ 2016 میں بنگلہ دیش کے مرکزی بینک سے 81 ملین ڈالر کی چوری، 2017 میں عالمی سطح پر کمپیوٹر سسٹمز کو مفلوج کرنے والا ’وانا کرائی‘ رینسم ویئر حملہ، 2022 میں رونن بلاک چین نیٹ ورک سے 620 ملین ڈالر کی چوری، 2023 میں اٹامک والٹ، الفاپو اور کوائنز پیڈ سے 200 ملین ڈالر کی ڈکیتی، فروری 2025 میں کرپٹو ایکسچینج ’بائی بٹ‘ سے 1.5 ارب ڈالر کے اثاثوں کا صفایا شامل ہیں۔
اے ایف پی کے رپورٹ کے مطابق رقم کا استعمال اور سائبر کرائم کی وجہ شمالی کوریا چوری شدہ کرپٹو کرنسی کو پرائیویٹ ایکسچینجز کے ذریعے لانڈر کر کے نقد رقم میں تبدیل کرتا ہے۔
اقوامِ متحدہ اور عالمی ماہرین کے مطابق یہ فنڈز براہِ راست ملٹری ریسرچ اور ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے شمالی کوریا کی روایتی تجارت شدید متاثر ہے، اسی لیے وہ کم سے کم اخراجات میں بغیر کسی سرحدی رکاوٹ کے خطیر رقم حاصل کرنے کے لیے سائبر کرائم کا سہارا لیتا ہے۔

 

شیئر: